LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایچ ون بی ویزا فیس میں ایک سال کی توسیع

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایچ ون بی نان امیگرنٹ ویزا کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کے صدارتی حکم نامے میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ یہ اقدام غیر ملکی ہنر مند کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے والے امریکی آجروں اور ٹیک کمپنیوں کے لیے انتہائی اہم مانا جا رہا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایچ ون بی نان امیگرنٹ ویزا کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی بھاری فیس عائد کرنے والے صدارتی حکم نامے میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس فیصلے کا مقصد وفاقی حکومت کے اس پروگرام کے تحت غیر ملکی ہنر مند ورکرز کی بھرتی کے ضوابط کو سخت کرنا ہے، جس کے ذریعے ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد امریکہ میں چند سالوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے جارحانہ امیگریشن پالیسیوں کے تحت اس پروگرام پر کڑی تنقید کی ہے اور وہ روایتی فیس کو دو سے پانچ ہزار ڈالر سے بڑھا کر کم از کم ایک لاکھ ڈالر کرنے کے خواہاں ہیں۔ تاہم، اس اقدام کو شدید قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے اور بوسٹن کی ایک اپیل کورٹ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا فیڈرل جج کا وہ فیصلہ درست تھا جس میں اس بھاری فیس کو غیر قانونی قرار دے کر حکومت کو اس کی وصولی سے روکا گیا تھا۔ ایک اور عدالت اس معاملے پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا یو ایس چیمبر آف کامرس کی طرف سے اس فیس کے خلاف دائر کردہ چیلنج کو جج نے درست طور پر مسترد کیا تھا یا نہیں۔ ٹرمپ کا فیس میں اضافے کا ابتدائی حکم نامہ، جو پہلی بار ستمبر 2025 میں جاری کیا گیا تھا، اس ماہ ختم ہونے والا تھا۔ واضح رہے کہ یہ حکم نامہ ان غیر ملکی شہریوں پر لاگو نہیں ہوتا جو پہلے ہی اسٹوڈنٹس ویزا پر امریکہ میں موجود ہیں اور نئی ایچ ون بی کی ایک بڑی تعداد بناتے ہیں، اور نہ ہی یہ موجودہ ویزا کی تجدید پر لاگو ہوتا ہے۔ اگرچہ ناقدین کا کہنا ہے کہ کچھ کمپنیاں امریکیوں کے بجائے کم تنخواہ والے غیر ملکی ورکرز کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ان ویزوں کا استعمال کرتی ہیں، تاہم کاروباری گروپس کا موقف ہے کہ یہ ویزے انتہائی ہنر مند پیشہ ور افراد کو راغب کرنے اور بعض صنعتوں میں کوالیفائیڈ ورکرز کی کمی کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہ ویزے، جو 1990 میں کانگریس کے ذریعے متعارف کرائے گئے تھے، بالخصوص ان ٹیک کمپنیوں کے لیے ناگزیر ہیں جو بھارت اور چین سے ہنر مند افراد کو بھرتی کرنا چاہتی ہیں۔ ویزا ہولڈرز کی اسکروٹنی اور پروسیسنگ کے طریقوں میں تبدیلیوں نے کمپنیوں کے کاروباری اور توسیعی منصوبوں کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ سمیت کئی بڑی فرمز نے بھارت میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔