Business
وزیراعظم شہباز شریف کا فیول سبسڈی بڑھانے اور ہفتہ وار حد نرم کرنے کا فیصلہ
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فیول ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے سبسڈی کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ہفتہ وار حد میں نرمی کر دی ہے۔ اس اسکیم سے ملک بھر میں تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ افراد کو براہِ راست ریلیف مل رہا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک میں جاری فیول ریلیف اسکیم کے ڈھانچے میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے سبسڈی کا دائرہ کار وسیع اور ہفتہ وار حد میں نرمی کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے پریس ریلیز کے مطابق اب بیس سال تک پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگچی رکشوں کو بھی اس اسکیم میں شامل کر لیا گیا ہے اور یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ تمام دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں اس کے لیے اہل ہوں گی۔ نئی ترامیم کے بعد اب شہری ایک ہفتے میں بغیر کسی کوانٹٹی کی قید کے پانچ سو روپے تک کی رعایت حاصل کر سکیں گے، جبکہ ہر ٹوکن کے اجراء کی مدت سات دن ہو گی۔
اسکیم کے تحت اہل شہری اب ماہانہ بنیادوں پر مختلف ٹوکنز کے ذریعے زیادہ سے زیادہ دو ہزار روپے تک کا ریلیف حاصل کرنے کے مجاز ہوں گے۔ وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ افراد اس فیول ریلیف اسکیم سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسکیم کے نفاذ کو مزید موثر بنانے کے لیے چاروں صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں خصوصی سہولت کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں ارکانِ پارلیمنٹ اور سیاسی ٹیمیں شہریوں کی رہنمائی کر رہی ہیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرناپڑے۔
وزیرِ موصوف نے اعتراف کیا کہ آغاز میں پٹرول پمپ مالکان کے ادائیگی کے طریقہ کار کے حوالے سے کچھ مسائل ضرور سامنے آئے تھے، جنہیں آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد حل کر لیا گیا ہے۔ اس موقع پر حکومتی سطح پر اخراجات میں کمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آپریشنل اور دفاعی گاڑیوں کے علاوہ سرکاری گاڑیوں کے لیے فیول کا کوٹہ پچاس فیصد تک کم کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری سطح پر نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد ہے اور سرکاری عشائیوں اور ظہرانے بھی محدود کر دیے گئے ہیں تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم سے کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب صوبائی سطح پر بھی وفاقی ہدایات پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے۔ سندھ حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق صوبے میں مارکیٹوں اور ریستورانوں کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کا اعلان اگلے ہفتے متوقع ہے تاکہ تاجر برادری کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وفاقی حکومت کا یہ اقدام مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے جس کو عوامی سطح پر بھی پذیرائی مل رہی ہے اور متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ اس امدادی پیکج کے فوائد نچلے طبقے تک مکمل شفافیت کے ساتھ پہنچ سکیں۔