LIVE
Loading Breaking News...

سمتھسونین امریکہ 250 نمائش میں لبرل اشیاء کی بہتات

News Image
سمتھسونین انسٹی ٹیوشن کی نئی نمائش میں امریکی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس نمائش میں لبرل نظریات سے وابستہ اشیاء کی تعداد قدامت پسند اشیاء کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رکھی گئی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں واقع معروف سمتھسونین انسٹی ٹیوشن نے امریکہ کی ڈھائی سو سالہ سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی نمائش کا انعقاد کیا ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس نمائش کا مقصد امریکی تاریخ کے ڈھائی سو سال مکمل ہونے پر ملک کے ماضی، ثقافت اور اہم تاریخی موڑ کو اجاگر کرنا ہے، تاہم ناقدین کی جانب سے اس میں سیاسی توازن کی کمی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ تفصیلی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ اس نمائش میں لبرل خیالات، تحریکوں اور شخصیات سے جڑی اشیاء کی تعداد قدامت پسند نظریات کی نمائندگی کرنے والی اشیاء کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ امریکہ کی طویل اور متنوع تاریخ میں مختلف سیاسی، سماجی اور ثقافتی تحریکوں کا اہم کردار رہا ہے۔ اس نمائش کے منتظمین کا مؤقف ہے کہ انہوں نے تاریخی حقائق اور دستیاب نوادرات کی روشنی میں بہترین عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن محققین اور قدامت پسند سیاست دانوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک قومی ادارے کی طرف سے اس طرح کی نمائش میں فکری توازن کا خیال رکھا جانا چاہیے تھا تاکہ ملک کے دونوں بڑے سیاسی اور فکری مکتبہ فکر کی مساوی نمائندگی ممکن ہو سکے۔ نمائش میں پیش کی جانے والی اشیاء میں شہری حقوق، خواتین کے حقوق اور دیگر سماجی تحریکوں سے جڑے لبرل بیانیے کو زیادہ نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ دوسری جانب، ثقافتی اور تاریخی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ عجائب گھروں میں اکثر تاریخی مواد کی فراہمی اور اس کے انتخاب کے عمل میں بعض اوقات ناگزیر تبدیلیاں آ جاتی ہیں، جنہیں جان بوجھ کر کسی خاص نظریے کے تحت نہیں بلکہ دستیاب نمونوں کی بنیاد پر شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، امریکہ کی موجودہ سیاسی صورتحال میں اس قسم کے ثقافتی اور تاریخی میل جول والے ادارے بھی بحث کا مرکز بن چکے ہیں۔ یہ نمائش آنے والے مہینوں میں عوام کے لیے کھلی رہے گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس پر بحث مزید شدت اختیار کرے گی کیونکہ ملک صدارتی اور سیاسی تقسیم کے ایک حساس دور سے گزر رہا ہے۔