Pakistan
فیول ریلیف اسکیم میں تبدیلی، ایس ایم ایس چارجز ختم اور دائرہ کار وسیع
وزیر اعظم کی ہدایات پر حکومت نے فیول ریلیف اسکیم میں ترمیم کرتے ہوئے غریب عوام کے لیے ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن بالکل مفت کر دی ہے۔ اسکیم کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے پرانی موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے مہنگائی سے ستائے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول ریلیف اسکیم میں اہم ترامیم کا اعلان کیا ہے جن کا بنیادی مقصد غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ وزیر اعظم کی خصوصی ہدایات کے بعد اسکیم کے تحت رجسٹریشن کا عمل اب بالکل مفت کر دیا گیا ہے، جس کے لیے شہریوں کو کوئی بھی ایس ایم ایس چارجز ادا نہیں کرنا پڑیں گے۔ یہ قدم ان لاکھوں صارفین کے لیے ایک بڑی راحت کی حیثیت رکھتا ہے جو بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
اسکیم کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہوئے حکومت نے اس میں پرانی موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو بھی باقاعدہ طور پر شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے ملک بھر کے وہ لاکھوں عام شہری مستفید ہوں گے جو روز روز کے آمد و رفت کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً 1.75 ملین (17 لاکھ 50 ہزار) پاکستانی اس فیول ریلیف اسکیم کے تحت اپنی رجسٹریشن کروا چکے ہیں جو اس عوامی فلاحی اقدام کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے شہروں میں خصوصی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ ڈرائیوروں کو سبسڈی کے حصول میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رجسٹریشن کے عمل کو انتہائی شفاف اور آسان بنائیں تاکہ کوئی بھی مستحق شہری اس سے محروم نہ رہ سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں اس طرح کے اقدامات عام آدمی کے لیے کافی حد تک معاون ثابت ہو رہے ہیں اور حکومت کو اس اسکیم کے دائرہ کار کو مستقبل میں مزید پھیلانا چاہیے۔