LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں دہشت گردانہ حملہ: القاعدہ سے جڑے گروہ نے ذمہ داری لے لی

News Image
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوہاٹ میں ہونے والے خودکش دھماکے اور پولیس کمپاؤنڈ پر حملے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد اکیس سے بڑھ کر اکتیس تک پہنچ گئی ہے۔ اس پرتشدد کارروائی کی ذمہ داری ایک ایسے شدت پسند گروہ نے قبول کی ہے جس کے روابط القاعدہ سے بتائے جاتے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے اہم ضلع کوہاٹ میں واقع ایک پولیس کمپاؤنڈ اور مسجد پر ہونے والے ہلاکت خیز خودکش حملے کے بعد سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ غیر ملکی میڈیا اور مقامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس دہشت گردانہ کارروائی میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم اکتیس ہو چکی ہے جبکہ متعدد افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد پورے علاقے میں ایمرجناف نافذ کر دی گئی اور امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے ایک مقام پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود پولیس اہلکار اور عام شہری شدید متاثر ہوئے۔ اس حملے کی نوعیت انتہائی شدید تھی جس سے قریبی عمارتوں اور مساجد کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کے فوراً بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ اسپتالوں میں ایمرجناف نافذ کر کے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس سنگین واقعے کے بعد ایک ایسے عسکریت پسند گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے روابط بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ بتائے جاتے ہیں۔ اس دعوے کے سامنے آنے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں الرٹ جاری کر دیا ہے اور تخریب کاری کے اس بڑے واقعے کے محرکات اور سہولت کاروں کی تلاش کے لیے جامع تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھڑ پھینکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو اس قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حملے نے ایک بار پھر ملک کی اندرونی سلامتی اور سرحد پار سے آنے والے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی ادارے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور اس قسم کے بزدلانہ حملوں کا بھرپور جواب دیا جا سکے۔