World
افغان طالبان اور پاکستان تعلقات، مذاکرات اور تعاون پر زور
افغان طالبان کے ترجمان نے پاکستان کے ساتھ تعلقات اور مسلسل بات چیت جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان درپیش سکیورٹی اور سرحدی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
کابل میں افغان طالبان حکومت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عبوری حکومت پاکستان کے ساتھ تمام دو طرفہ امور پر بات چیت اور تعاون کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہے۔ ترجمان کے مطابق خطے میں امن اور استحکام کے لیے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین رابطے انتہائی اہم ہیں اور کسی بھی غلط فہمی کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ صرف اور صرف مذاکرات ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سکیورٹی اور عسکری کارروائیوں کے حوالے سے کشیدگی اور سفارتی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو واضح کر دیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے اور سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے خلاف دفاع کا پورا حق محفوظ ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کے پاس دہشت گردی کے تمام ذرائع کو ختم کرنے کی مکمل صلاحیت اور سیاسی عزم موجود ہے۔ حالیہ دنوں میں کوہاٹ اور دیگر مقامات پر ہونے والے حملوں کے بعد اسلام آباد نے کابل انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔
پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اسلام آباد نے عالمی سطح پر بھی اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ افغان عبوری حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کا کہتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔