Business
قومی بچت اسکیموں کے منافع میں کمی - نیکسورا نیوز
وفاقی حکومت نے قومی بچت کے مختلف اکاؤنٹس اور سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اکثر مصنوعات پر منافع کی شرح میں 36 بیسس پوائنٹس تک کمی کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے عوام اور سرمایہ کاروں کو بڑا دھکا دیتے ہوئے قومی بچت کی اہم اسکیموں پر منافع کی شرح میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل سیونگز کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق مختلف سیونگز سرٹیفکیٹس اور اکائونٹس پر منافع کی شرح میں کمی کی گئی ہے تاکہ ملکی معاشی صورتحال اور مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات کے مطابق اقدامات کیے جا سکیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق شرح سود میں اس کمی کا بنیادی مقصد ملکی مالیاتی اخراجات کو قابو میں رکھنا اور بینکاری نظام میں سرمایہ کاری کے نئے توازن کو قائم کرنا ہے۔قومی بچت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر مصنوعات اور اسکیموں پر منافع کی شرح میں 36 بیسس پوائنٹس تک کی کمی کی گئی ہے۔ اس فیصلے سے وہ لاکھوں شہری براہ راست متاثر ہوں گے جو اپنی روزمرہ زندگی کی ضروریات اور پنشن کے حصول کے لیے قومی بچت کی ان اسکیموں پر انحصار کرتے ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دوران منافع کی شرح میں کمی سے عام بچت کرنے والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم حکومت نے یہ قدم ملکی معیشت کی بہتری اور مالیاتی استحکام کے وسیع تر مفاد میں اٹھایا ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی بانڈز اور مارکیٹ کے ریٹس میں کمی کے بعد قومی بچت کی شرح میں یہ ردوبدل متوقع تھا۔ حکومت کی جانب سے اکثر فکسڈ انکم اسکیموں پر منافع کم کرنے کا فیصلہ اس بات کا عکاس ہے کہ آنے والے دنوں میں شرح سود میں مزید نرمی کی جا سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں اور بزرگ شہریوں کی جانب سے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ان کی ماہانہ آمدنی میں کمی واقع ہوگی۔ دوسری جانب مالیاتی اداروں کا ماننا ہے کہ اس سے حکومت کو قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے اور ملکی خزانے پر مالی دباؤ کو ہلکا کرنے میں مدد ملے گی۔