LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فیشن سی ای او کا استعفیٰ، اینیمل رائٹس احتجاج کا معاملہ

News Image
امریکی فیشن کونسل کے سربراہ اسٹیون کولب نے نیویارک فیشن ویک کے دوران احتجاجی کارکنوں کے ساتھ جسمانی جھگڑے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد فیشن انڈسٹری میں جانوروں کے حقوق اور سیکورٹی کے انتظامات پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
امریکی فیشن انڈسٹری کے سرکردہ رہنما اور کونسل آف فیشن ڈیزائنرز آف امریکہ (CFDA) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹیون کولب نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ نیویارک فیشن ویک کے دوران پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے فیشن شو کے دوران داخل ہونے والے اینیمل رائٹس (جانوروں کے حقوق) کے کارکنوں کو مبینہ طور پر زبردستی روکا اور ان کے ساتھ جسمانی جھگڑا کیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی تھی، جس نے فیشن انڈسٹری اور عوامی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی تھی۔ پیٹا (PETA) سمیت متعدد جانوروں کے حقوق کے اداروں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور فیشن ایگزیکٹو کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق، احتجاج کرنے والے کارکن فیشن شوز میں جانوروں کی کھال کے استعمال کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے ہال میں داخل ہوئے تھے۔ صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب اسٹیون کولب نے خود مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کو جسمانی طور پر قابو کرنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد فیشن کونسل پر دباؤ بڑھتا گیا کہ وہ اس سنگین اخلاقی اور انتظامی غلطی پر سخت قدم اٹھائے۔ بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اسٹیون کولب نے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ ادارے کی ساکھ کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب، پیٹا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ فیشن انڈسٹری کے ذمہ داران کے ساتھ ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے پرتشدد واقعات سے بچا جا سکے اور فیشن برانڈز کو جانوروں کے حقوق کا احترام کرنے کا پابند بنایا جا سکے۔ اس واقعے نے فیشن انڈسٹری کے اندرون خانہ حالات اور اخلاقی ضابطہ اخلاق پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے آنے والے دنوں میں فیشن شوز کے دوران سیکورٹی اور احتجاج سے نمٹنے کے طریقوں میں نمایاں تبدیلیاں آئیں گی۔