LIVE
Loading Breaking News...

فٹ بال مینیجرز اور طویل بین الاقوامی وقفے کا دباؤ

News Image
فٹ بال سیزن کے دوران طویل بین الاقوامی وقفے نے مینیجرز کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اب تک دو کوچز اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ مزید پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
فٹ بال سیزن کے جاری ایڈیشن میں اب تک صرف دو کوچز اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، لیکن آنے والے طویل اور توسیع شدہ بین الاقوامی وقفے نے دیگر بہت سے مینیجرز کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ تین ہفتوں کا یہ طویل وقفہ کلب فٹ بال ٹیموں اور ان کے کوچنگ اسٹاف کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں ہے۔ جب کھلاڑی اپنے اپنے قومی اسکواڈز کے ساتھ ذمہ داریاں نبھانے جائیں گے، تو پیچھے رہ جانے والے مینیجرز کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کا موقع تو ملے گا، ساتھ ہی غیر یقینی صورتحال کا خوف بھی دامن گیر رہے گا۔ ماہرین کے مطابق، اس طویل وقفے کے دوران کوچز پر دباؤ اس لیے بھی زیادہ ہوگا کیونکہ جب ٹیمیں دوبارہ کلب فٹ بال کی طرف لوٹیں گی تو نتائج کی فوری توقع کی جائے گی۔ کسی بھی ٹیم کی ناقص کارکردگی مینیجر کی برطرفی کا سبب بن سکتی ہے۔ رواں سیزن کے آغاز میں ہی دو کوچز کی برطرفی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کلب انتظامیہ کا صبر اب جواب دیتا جا رہا ہے اور وہ فوری نتائج چاہتی ہے۔ بین الاقوامی بریک کے دوران کھلاڑیوں کی انجری کے خدشات بھی مینیجرز کے لیے بڑی درد سر بنے رہتے ہیں۔ اگر کوئی اہم کھلاڑی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے زخمی ہو جاتا ہے، تو اس کا براہ راست اثر کلب کی کارکردگی پر پڑتا ہے، جس کا ذمہ دار بالآخر مینیجر کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تین ہفتے مینیجرز کے لیے آرام کا نہیں بلکہ شدید ذہنی تناؤ اور اگلے لائحہ عمل کی منصوبہ بندی کا وقت ہوتے ہیں۔