World
تونس احتجاج: صمود کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ اور بھوک ہڑتال
تونس میں شہریوں نے صمود مہم کے چار گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کے لیے بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس دوران ایک زیر حراست کارکن کی بھوک ہڑتال کے باعث بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
تونس کے دارالحکومت اور مختلف شہروں میں شہریوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے صمود مہم سے وابستہ چار کارکنوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے لیے زور دار احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کارکنوں کی گرفتاری سراسر ناانصافی ہے اور حکومت کو بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کرنا چاہیے۔ اس احتجاج کا بنیادی محرک ایک زیر حراست کارکن کی بگڑتی ہوئی صحت ہے جو پچھلے ایک ماہ سے زائد عرصے سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھوک ہڑتال کرنے والے کارکن کی جسمانی حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور انہیں فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہے تاہم اہل خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اقدامات اٹھائیں۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے حق میں اور ظالمانہ ہتھکنڈوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ پولیس کی بھاری نفری احتجاج کے دوران تعینات رہی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔
صمود تحریک نے اس موقع پر اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں جو کہ جمہوریت اور بنیادی آزادیوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔ رہنماؤں کا عزم ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی رہائی اور ملک میں قانون کی حکمرانی کی بحالی کے لیے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ تونس میں سیاسی کارکنوں کی من مانی گرفتاریوں کا نوٹس لیں اور ان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال تونس کی سیاسی فضا میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتی ہے جہاں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کشمکش میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ عوام کی جانب سے اٹھنے والی اس آواز نے حکومتی حلقوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس احتجاجی تحریک کے مزید پھیلنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔