LIVE
Loading Breaking News...

مشیل باشی لی کا اقوام متحدہ کے چیف کی دوڑ سے دستبرداری کا اعلان

News Image
سابق چلی کی صدر مشیل باشی لی نے رائے شماری میں کم حمایت ملنے کے بعد اقوام متحدہ کی قیادت حاصل کرنے کی دوڑ چھوڑ دی ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی پہلی خاتون سربراہ بننے کی خواہش مند تھیں۔
سابق چلی کی صدر مشیل باشی لی نے اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی خاتون سربراہ بننے کی اپنی کوششوں کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انہیں اس عالمی عہدے کے لیے ہونے والی ابتدائی رائے شماری اور سیاسی مباحثوں میں توقع سے کم حمایت حاصل ہو رہی تھی۔ مشیل باشی لی عالمی سطح پر ایک معروف سیاسی شخصیت ہیں اور اس سے قبل وہ اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے انسانی حقوق کے منصب پر بھی فائز رہ چکی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں اس عہدے کے لیے ایک مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم، اقوام متحدہ کے آئندہ سربراہ کے انتخاب کے عمل کے دوران سیاسی گلیوں میں ہونے والی ہماہنگی اور رکن ممالک کے درمیان پائے جانے والے توازن نے ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ ذرائع کے مطابق، مختلف ممالک کی طرف سے ملنے والے اشاروں اور اندرونی جائزوں سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ ان کی نامزدگی کو سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی وہ متفقہ حمایت حاصل نہیں ہو پائے گی جو اس منصب تک پہنچنے کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ مشیل باشی لی کے اس فیصلے سے اقوام متحدہ کی قیادت کے لیے ہونے والے انتخاب کا نقشہ تبدیل ہو گیا ہے، اور اب دیگر ممکنہ امیدواروں کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے۔ ان کی دستبرداری کے بعد مبصرین یہ تجزیہ کر رہے ہیں کہ آیا یہ عالمی ادارہ مستقبل قریب میں کسی خاتون کو اس اعلیٰ ترین منصب پر فائز دیکھ سکے گا یا نہیں۔ مشیل باشی لی کے حامیوں کی طرف سے ان کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف سیاسی حلقوں میں اسے ایک حقیقت پسندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔