Pakistan
پاکستان میں سول سروس اور بیوروکریسی میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے بیوروکریسی میں مہارت اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سول سروس میں تاریخی اصلاحات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ان اصلاحات میں گیارہ نئے پروفیشنل کیڈر، سی ایس ایس کے نظام میں تبدیلی اور بی ایس بیس اور اس سے اوپر کی آسامیوں کو مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کی تجاویز شامل ہیں۔
اسلام آباد میں بیوروکریسی کے معیار میں بہتری اور پیشہ ورانہ مہارت کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت نے سول سروس کی جامع تنظیم نو کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم تجارتی و انتظامی پیکیج تیار کیا گیا ہے جس کا تخمینہ گیارہ ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اصلاحات کا مقصد بھرتی، تربیت، کیریئر کی ترقی اور کارکردگی کے تعین کے نظام کو یکسر تبدیل کرنا ہے، جس کا اعلان حال ہی میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت منعقدہ ایک مشاورتی سیشن میں کیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ وزراء، سینیٹرز اور شعبہ جاتی ماہرین بھی موجود تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی جانے والی کمیٹیوں نے اس پیکیج پر تفصیلی غور کیا ہے اور تمام تجاویز پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا ہے۔نئے مجوزہ نظام کے تحت بیوروکریسی میں گیارہ نئے پروفیشنل کیڈرز قائم کرنے کی تجویز ہے جن میں ایچ آر، قانون، انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، انرجی، کلائمیٹ، زراعت، تعلیم اور صحت کے گروپس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہیومن ریسورس اینڈ آرگنائزیشن ڈویلپمنٹ ڈویژن میں تبدیل کیا جائے گا جبکہ فیصلہ سازی کے مراحل کو پانچ درجوں سے کم کر کے تین کر دیا جائے گا۔ نیشنل ایگزیکٹو سروس (این ای ایس) کے ڈھانچے کے تحت گریڈ بیس اور اس سے اوپر کے عہدوں کو پانچ سالہ کنٹریکٹ پر کھلے مسابقتی عمل کے ذریعے پر کیا جائے گا، جس میں سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے ماہرین اور ماہرین تعلیم بھی برابر حصہ لے سکیں گے۔سی ایس ایس کے امتحانات کے نظام میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کا مقصد قابلیت اور اہلیت کو مزید بہتر بنانا ہے۔ امیدواروں کو لازمی پرچہ جات اردو میں دینے کی اجازت ہوگی جبکہ انگریزی کی بنیادی مہارت کا امتحان جاری رہے گا۔ بھرتی کے عمل کو شفاف اور بہتر بنانے کے لیے انٹرویو کے روایتی طریقہ کار کو آئی ایس ایس بی کی طرز پر کثیر روزہ قابلیت پر مبنی جانچ سے تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید برآں، ہر وزارت کو وزیراعظم کے ساتھ سالانہ کارکردگی کے معاہدے کا پابند بنایا جائے گا تاکہ سرکاری ملازمین کی کارکردگی کو براہ راست ان کی مالی مراعات اور بونس کے ساتھ منسلک کیا جا سکے۔