Politics
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اور خارجہ پالیسی پر وزیراعلیٰ کا سخت بیان
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے کوہاٹ میں شہداء کے لواحقین سے ملاقات کے دوران کہا کہ گزشتہ بائیس سال سے جاری خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے سرحدی بندش، معاشی نقصانات اور دہشت گردی میں اضافے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ملک میں روز بروز بگڑتی ہوئی امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال دراصل گزشتہ بائیس سال سے اپنائی جانے والی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ کوہاٹ کے دورے کے دوران انہوں نے پولیس لائنز میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان کی جرأت و بہادری کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پالیسی مسلسل ناکام ہو رہی ہو اور نتائج دینے میں قاصر ہو تو وقت کا تقاضا ہے کہ اس میں فوری تبدیلی لائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا مسلسل 2004 سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس طویل المدتی جنگ میں صوبے نے اسی ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں افغانستان میں برسرِ اقتدار آنے والی حکومت کا جن لوگوں نے خیرمقدم کیا تھا، بعد میں صورتحال نے انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیا۔ افغان سرحد کی بندش اور تجارت کی بندش کی وجہ سے قبائلی اضلاع کی معاشی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں اور صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف پچھلے مالی سال کے دوران سرحد کی بندش کی وجہ سے خیبر پختونخوا کو آٹھ ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ موجودہ مالی سال میں بھی مزید نقصانات کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا کہ صوبے کے عوام اور پولیس مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ امتیازی رویہ رکھا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے کوہاٹ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے ہسپتال میں سی ٹی سکین، ایم آر آئی اور دیگر جدید طبی آلات کی فراہمی کا بھی اعلان کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کوہاٹ میں اسپیشل برانچ کے لیے نئے پولیس اسٹیشن کے قیام اور شہداء کے لواحقین کے لیے خصوصی مالی امداد کا بھی اعلان کیا تاکہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کو کم کیا جا سکے اور فرنٹ لائن پر لڑنے والے جوانوں کے بلند حوصلے کو برقرار رکھا جا سکے۔