Pakistan
اسلام آباد: پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل پولیس کا کریک ڈاؤن، 4 کارکن گرفتار
اسلام آباد پولیس نے 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل کارروائی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چار کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف سرکاری امور میں مداخلت اور ہنگامہ آرائی سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے آئندہ 27 ستمبر کو متوقع سیاسی احتجاج کے پیش نظر کارروائی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چار کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں ایک سب انسپکٹر کی مدعی میں درج کی جانے والی شکایت کی بنیاد پر عمل میں آئیں، جن میں تعزیرات پاکستان کی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ پی ٹی آئی کے یہ کارکنان ای سولہ کے علاقے میں ایک پراپرٹی ڈیلر کے دفتر میں 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کر رہے تھے، جس کی اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری طور پر چھاپہ مارا۔ پولیس کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ چھاپے کے دوران اجلاس میں موجود افراد نے پولیس پارٹی پر مبینہ طور پر تشدد کیا، ان کی وردیاں پھاڑیں اور انہیں کچھ دیر کے لیے یرغمال بھی بنائے رکھا، جس کے بعد اضافی نفری طلب کر کے حالات پر قابو پایا گیا اور گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس کارروائی کے بعد وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور پولیس حکام نے ملک گیر احتجاج سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں سنٹرل پولیس آفس اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس میں سکیورٹی کے موجودہ انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور احتجاج کو ناکام بنانے یا اس سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی گئی۔ اجلاس میں تمام متعلقہ افسران نے شرکت کی اور سابقہ تجربات کی روشنی میں لائحہ عمل طے کیا گیا۔ پولیس اور انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں تمام سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ مہمان خانوں، مسافر خانے، بس اڈوں اور ان تمام ممکنہ کنٹریکٹرز کی نگرانی کی جا رہی ہے جو احتجاج میں شریک ہونے والے افراد کو کھانے، پانی، رہائش یا ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسپیشل برانچ اور کاؤنٹر ٹیرزم ڈیپارٹمنٹ سمیت تمام انٹیلی جنس یونٹس کو بھی مکمل طور پر الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی سرگرمیوں کا احوال بروقت حاصل کیا جا سکے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔