Business
خوردنی تیل کے ٹینکرز پر 60 ملین جرمانہ
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے کارٹیلائزیشن میں ملوث ہونے پر خوردنی تیل کے ٹینکرز کی ایسوسی ایشن پر ساٹھ ملین روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مارکیٹ میں من مانے نرخوں اور مسابقت کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے کارٹیلائزیشن میں ملوث ہونے اور مسابقت کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے پر خوردنی تیل کے ٹینکرز کی ایسوسی ایشن پر ساٹھ ملین (60 ملین) روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے نظام میں من مانے نرخوں کے تعین اور مسابقت مخالف سرگرمیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق کمپیٹیشن کمیشن کو کئی عرصے سے شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ ٹینکرز مالکان کی ایسوسی ایشن مبینہ طور پر گھی اور خوردنی تیل کی نقل و حمل کے نرخوں کو مصنوعی طور پر کنٹرول کر رہی ہے اور ایک ہی پلیٹ فارم سے کرایوں میں من مانے اضافے کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ان شکایات پر سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے معاملے کی گہرائی سے انکوائری کی جس میں اس بات کے واضح شواہد ملے کہ ایسوسی ایشن نے مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی۔
سی سی پی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے غیر قانونی اتحاد اور کارٹیلائزیشن سے نہ صرف عام صارفین بلکہ ملکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے کیونکہ اس سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ ہوتا ہے۔ کمیشن نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ فری مارکیٹ اکانومی میں کسی بھی ایسوسی ایشن کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے کاروباری مفادات کے لیے صارفین کا استحصال کرے یا من مانے فیصلے نافذ کرے۔
معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں نے کمپیٹیشن کمیشن کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے سپلائی چین کے شعبے میں شفافیت آئے گی اور مستقبل میں کوئی بھی ایسوسی ایشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے سے گریز کرے گی۔ ٹینکرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اس جرمانے اور کمیشن کے فیصلے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ اس کیس کے بعد ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے دیگر شعبوں میں بھی نگرانی مزید سخت ہو جائے گی۔