LIVE
Loading Breaking News...

ایمازون کا ناکام اے آئی پروجیکٹ: 1.8 ملین ڈالر کا خسارہ

News Image
معروف ای کامرس کمپنی ایمازون کو مصنوعی ذہانت کے ایک ناکام پروجیکٹ کے دوران اٹھارہ لاکھ ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑا۔ حیرت انگیز طور پر کمپنی انتظامیہ پانچ ماہ تک اس مالیاتی غفلت سے مکمل طور پر بے خبر رہی۔
عالمی شہرت یافتہ ای کامرس کمپنی ایمازون کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے دوران ایک بڑے مالیاتی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایمازون نے اینتھروپک کے 'کلود سونیٹ' ماڈل پر مبنی ایک ایسا پروجیکٹ شروع کیا تھا جس کا مقصد مصنفین کی معلومات کو پروڈکٹ کی فہرستوں کے ساتھ ملانا تھا۔ اس تکنیکی نظام کا بنیادی مقصد کام کو خودکار بنانا اور صارفین کے لیے سہولت پیدا کرنا تھا، تاہم نتائج توقعات کے بالکل برعکس نکلے۔ یہ پروجیکٹ تکنیکی لحاظ سے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا جس کی وجہ سے کمپنی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور اس کے ساتھ ساتھ کمپنی کے وسائل کا بھی ضیاع ہوا۔ اس ناکام پراجیکٹ کے دوران اخراجات میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر کل لاگت اٹھارہ لاکھ ڈالر یعنی 1.8 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جو کہ اصل طے شدہ بجٹ سے 860 فیصد زیادہ تھی۔ اتنی بڑی رقم خرچ ہو جانے کے باوجود کمپنی کی اندرونی نگرانی کا نظام اس مالیاتی بوجھ کو بروقت پکڑنے میں ناکام رہا۔ سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اخراجات میں اس بے پناہ اضافے اور بجٹ کی خلاف ورزی کا یہ مسئلہ پورے پانچ ماہ تک کمپنی کے اعلیٰ حکام کی نظروں سے پوشیدہ رہا اور کسی کو اس کی بھنک تک نہیں پڑی۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑی کارپوریٹ کمپنیوں میں بھی مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی نگرانی کے لیے قائم کردہ نظام میں بعض اوقات کتنی بڑی خامیاں موجود ہو سکتی ہیں۔ جب کمپنیاں تیزی سے جدید ٹیکنالوجی بالخصوص جنریٹو اے آئی کو اپنانے کی کوشش کرتی ہیں تو اکثر جلد بازی میں خطرات کا تخمینہ درست طریقے سے نہیں لگایا جاتا۔ ایمازون جیسے بڑے ادارے کے اندر اس نوعیت کی غفلت کا سامنے آنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مستقبل میں اے آئی پروجیکٹس کے بجٹ اور ان کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ ایسے بڑے مالیاتی نقصانات سے بچا جا سکے۔