LIVE
Loading Breaking News...

اریتریا میں پچیس سال سے قید سیاسی قیدیوں کے بچوں کا انکشاف

News Image
اریتریا میں پچیس سال قبل بغیر کسی ٹرائل کے جیل میں ڈالے جانے والے اہم سیاستدانوں کے بچوں نے اپنے والدین کے بارے میں معلومات مانگ لی ہیں۔ ان بچوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے والدین اس وقت زندہ بھی ہیں یا نہیں۔
افریقی ملک اریتریا میں پچیس سال قبل بغیر کسی باضابطہ ٹرائل یا الزام کے جیلوں میں ڈالے جانے والے اہم سیاسی رہنماؤں اور جنگی ہیروز کے بچوں نے اب حکومت سے اپنے والدین کے بارے میں جوابات طلب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ان بچوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے اس کرب میں مبتلا ہیں کہ انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے والد یا والدہ اب اس دنیا میں موجود بھی ہیں یا نہیں۔ اریتریا کی تاریخ میں یہ واقعہ انتہائی تاریک باب کی حیثیت رکھتا ہے جہاں ریاستی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے یا اختلافِ رائے رکھنے والے سرکردہ افراد کو اچانک غائب کر دیا گیا تھا۔ متاثرہ خاندانوں کے مطابق ان قیدیوں کو نہ تو کبھی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان خاندانوں کے لیے یہ صدمہ اور تکلیف ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ اب ان قیدیوں کی اگلی نسل یعنی ان کے بچے سامنے آئے ہیں جو اپنے والدین کے بنیادی انسانی حقوق اور ان کی خیریت کے بارے میں جاننے کے لیے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پچیس سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود انہیں انصاف کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی لیکن وہ اپنے پیاروں کے بارے میں سچ جاننے کا حق رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اریتریا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان قیدیوں کی حالتِ زار اور ان کے مقامِ رہائش سے متعلق معلومات فراہم کرے تاکہ ان خاندانوں کی دہائیوں پرانی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔