World
مانچسٹر یونائیٹڈ کے مالک ٹیکس جلاوطنی پر تنقید کی زد میں
مانچسٹر یونائیٹڈ کے ارب پتی مالک کے ٹیکس جلاوطنی کے اعلان کے بعد لیبر پارٹی کی چیئر نے ان پر کڑی تنقید کی ہے۔ ارب پتی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ زیادہ ٹیکسوں اور ہجرت کی وجہ سے برطانیہ پر اعتماد کھو چکے ہیں۔
برطانیہ میں سیاسی اور معاشی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب مانچسٹر یونائیٹڈ کے ارب پتی مالک کی جانب سے ملک میں زیادہ ٹیکسوں اور ہجرت کے مسائل کی وجہ سے عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ اس پیش رفت کے بعد لیبر پارٹی کی چیئر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات اور بیانات سے ملک کے اخلاقی اور سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ برطانوی معیشت اور ٹیکس پالیسیوں پر پہلے ہی گرما گرم بحث جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ارب پتی کاروباری شخصیت نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے بھاری ٹیکسز اور امیگریشن کی بڑھتی ہوئی شرح نے کاروباری افراد کے لیے سازگار ماحول ختم کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے ملک میں رہنے یا سرمایہ کاری جاری رکھنے کے حوالے سے اپنے خدشات کا کھل کر اظہار کیا، جس کے بعد سے سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا حکومت کی پالیسیاں بڑے سرمایہ کاروں کو باہر جانے پر مجبور کر رہی ہیں۔
دوسری جانب، لیبر پارٹی کے رہنماؤں نے اس مؤقف کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے کے بجائے اس قسم کے اقدامات اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاسی کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ملک کو معاشی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے، تو ایسے میں بعض اشرافیہ کا ٹیکسوں سے فرار اختیار کرنا اور جلاوطنی کی باتیں کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور سخت بنایا جائے۔