LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں اے آئی فورس کا قیام اور مصنوعی ذہانت کے زار کی تقرری

News Image
امریکی صدر نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ’اے آئی فورس‘ تشکیل دینے اور ایک خصوصی اے آئی زار مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تعطل پیدا نہیں کرے گی۔
امریکہ کے نو منتخب صدر نے ملک میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کو وسعت دینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی اقدام کا اعلان کیا ہے۔ اپنے اس نئے فیصلے کے تحت ان کی انتظامیہ ملک میں ایک خصوصی ’اے آئی فورس‘ تشکیل دے گی جو مصنوعی ذہانت کے فروغ اور اس کے دفاعی و ملکی امور میں موثر استعمال کو یقینی بنائے گی۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کے اس شعبے کی نگرانی اور ترقی کے لیے ایک باقاعدہ مصنوعی ذہانت کے زار (AI Tsar) کو بھی تعینات کیا جائے گا جو اس پورے نظام کی قیادت کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد امریکہ کو دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں سرفہرست رکھنا اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی حکومت ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کو کسی بھی طرح سے متاثر، محدود یا سست نہیں کرے گی۔ ماہرین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات اور اس کے ضابطہ کار کے بارے میں مختلف انتباہات اور خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں حائل ہونے والی کسی بھی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرے گی۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ ضابطہ بندی کے نام پر ٹیکنالوجی کے فروغ کو روکنا ملک کے تکنیکی مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے ترقی کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نئی ’اے آئی فورس‘ اور زار کے تقرری سے امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے تحقیقی اور ترقیاتی منصوبوں کو زبردست تقویت ملے گی۔ نجی اور سرکاری شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار تیز ہوگی اور قومی سلامتی نیز معیشت کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں مدد ملے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ امریکی کمپنیاں عالمی سطح پر اس میدان میں سب سے آگے رہیں اور بین الاقوامی مسابقت میں کسی قسم کی پسپائی کا سامنا نہ کرناپڑے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پوری دنیا میں مصنوعی ذہانت کے فوائد اور نقصانات پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ ایک طرف جہاں اس ٹیکنالوجی سے معاشی انقلاب اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف اخلاقی اقدار اور سکیورٹی کے حوالے سے خدشات بھی موجود ہیں۔ تاہم، امریکی انتظامیہ کا یہ تازہ ترین فیصلہ اس عزم کا مظہر ہے کہ وہ اس انقلابی ٹیکنالوجی کو مکمل آزادی کے ساتھ پروان چڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ملک کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کیا جا سکے۔