World
اولڈھم میں ایشیائی ہرنیٹ کا چھتہ دریافت، جی پی ایس ٹریکر کا استعمال
برطانیہ کے علاقے اولڈھم میں شہ مکھی پالنے والوں اور انسپکٹرز نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایشیائی ہرنیٹ کا پتہ لگایا ہے۔ جی پی ایس ٹریکرز کی مدد سے ان خطرناک حشرات کا تعاقب کیا گیا جس کے نتیجے میں ان کے چھتے تک رسائی ممکن ہوئی۔
برطانیہ کے علاقے اولڈھم میں شہ مکھی پالنے والوں اور محکمہ صحت و زراعت کے انسپکٹرز نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے جدید ترین جی پی ایس ٹریکرز کی مدد سے ایشیائی ہرنیٹ (Asian hornet) کے چھتے کو کامیابی سے تلاش کر لیا ہے۔ اس کارروائی میں جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا گیا تاکہ ان خطرناک اور حملہ آور حشرات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے جو مقامی شہ مکھیوں اور دیگر مفید کیڑوں کے لیے شدید خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ایشیائی ہرنیٹ مقامی ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اور خاص طور پر شہ مکھیوں کی آبادی کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں جو زراعت اور پھولوں کی پیداوار کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ماہرین نے خصوصی حکمت عملی اپناتے ہوئے ہرنیٹ کے پیچھے جی پی ایس ٹریکرز نصب کیے، جن کی مدد سے ان کی پرواز کے راستے کو ٹریک کیا گیا۔ اس ٹریکنگ کے ذریعے ٹیمیں آخر کار اولڈھم میں اس چھتے تک پہنچ گئیں جہاں یہ حشرات پناہ لیے ہوئے تھے۔ اس اہم دریافت کے بعد اب مقامی انتظامیہ اور ماہرین کی ٹیمیں اس چھتے کو تلف کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہیں تاکہ ان کی مزید افزائش کو روکا جا سکے۔ اس کارروائی کو ماحولیاتی تحفظ اور شہ مکھیوں کی بقا کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جدید تکنیکیں مستقبل میں ایسے دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی انتہائی مددگار ثابت ہوں گی۔