LIVE
Loading Breaking News...

مظاہروں سے معیشت کو روزانہ 120 ارب روپے کا نقصان: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

News Image
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی احتجاج اور دھرنوں کی وجہ سے ملک کو روزانہ تقریباً 120 ارب روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی استحکام کو نقصان پہنچانے والے ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے اور تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اتوار کے روز ایک ٹی وی بیان میں سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں متوقع احتجاجی دھرنوں اور دھرنے کی سیاست کے باعث قومی معیشت کو یومیہ بنیادوں پر تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے اس صورتحال کو ملک کے لیے 'خود ساختہ درد اور عذاب' سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس سے طویل محنت کے بعد حاصل ہونے والا مشکل معاشی استحکام شدید متاثر ہوگا۔ وزیر خزانہ کے مطابق یہ تخمینہ پلاننگ کمیشن کے معاشی ونگ کی مشاورت اور تحقیق پر مبنی ہے، جس میں ماضی کے تجربات اور موجودہ ملکی حالات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے شعبہ وار تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سروسز سیکٹر اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوگا جس میں مالیاتی خدمات، مواصلات، ریٹیل، ٹرانسپورٹ اور ہاسپیٹالیٹی شامل ہیں، اور اس شعبے کو روزانہ 86 ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی شعبے کو 25 ارب روپے اور زرعی شعبے کو 9 ارب روپے کا نقصان متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں قومی خزانے کو محصولات کی مد میں بھی 17 ارب روپے کا اضافی نقصان اٹھانا پڑے گا، جبکہ سکیورٹی اخراجات اور لاجسٹکس کا بوجھ الگ سے قومی خزانے پر پڑے گا۔ محمد اورنگزیب نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر سپلائی چین کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے اور ایک نئے بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سیاسی اقدامات سے نہ صرف برآمدات بلکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو بھی شدید دھچکا لگے گا کیونکہ ماضی میں انٹرنیٹ کی بندش اور سول نافرمانی کی وجہ سے آئی ٹی ایکسپورٹس میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑی مشکل سے معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈالا ہے اور حالیہ مہینوں میں معاشی اعشاریے بہت بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ دوسری جانب، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت کسی بھی پرتشدد گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی اور اس حوالے سے عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت کی سڑکیں اور راستے کھلے رکھے جائیں گے تاکہ عام شہریوں کی زندگی اور کاروبار متاثر نہ ہوں۔ وزیر خزانہ نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تصادم اور دھرنوں کی سیاست ترک کریں اور ملکی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کریں کیونکہ اس معاشی بوجھ کا حتمی خمیازہ عام آدمی، مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کو بھگتنا پڑتا ہے۔