Pakistan
جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ، پیٹرولیم لیوی کیخلاف ملک گیر احتجاج
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس دوران حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف اتوار کے روز کراچی سے اسلام آباد کی طرف اپنے احتجاجی مارچ کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ کراچی کینٹن اسٹیشن پر حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو یہ احتجاجی تحریک حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طے شدہ حکمت عملی کے تحت ملک بھر سے لوگ اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں جبکہ ٹرین مارچ اور روڈ کارواں کے ذریعے کارکنان وفاقی دارالحکومت کی طرف گامزن ہیں۔ حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ اس مارچ کا بنیادی مقصد پسماندہ اور کمزور طبقے پر مالی بوجھ کو کم کرنا ہے، کیونکہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اپنی ناقص گورنرنس کا بوجھ عام آدمی پر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیوی کی ظالمانہ وصولی بند کی جائے تاکہ پیٹرول کی قیمتیں کم ہو کر دو سو روپے فی لیٹر کے قریب آ سکیں اور ملکی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہو سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت بحران کے اس دور میں عام عوام کو لوٹنا چاہتی ہے اور خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں یہاں پیٹرول کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، اسلام آباد کے رُخ پر رواں دواں اس مارچ سے پہلے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان منصورہ لاہور میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ حکومتی وفد نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جماعت اسلامی سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا۔ اس صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد انتظامیہ نے جڑواں شہروں اور دارالحکومت کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے ہیں اور شہر کے اہم ہسپتالوں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے اور شہریوں کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔