Politics
علیمہ خان کی لاہور سے گرفتاری، پی ٹی آئی کا احتجاجی مارچ
پاکستان تحریک انصاف کے متوقع احتجاجی مارچ سے پہلے سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمہیرہ علیمہ خان کو لاہور سے حراست میں لے لیا گیا۔ پارٹی قیادت نے اس گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشیدگی میں اضافے کا سبب قرار دیا ہے۔
لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے متوقع احتجاجی مارچ اور جلسے سے قبل انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمہیرہ علیمہ خان کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس ذرائع اور مقامی میڈیا کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امن و عامہ کی صورتحال کو برقرار رکھنے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ پارٹی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ علیمہ خان کو لاہور میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کے سلسلے میں متحرک تھیں۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت اس طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے پارٹی کو دباؤ میں لانا چاہتی ہے اور پرامن سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور دیگر مرکزی رہنماؤں نے علیمہ خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور ان کے اہل خانہ کی اس طرح کی گرفتاریاں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے منافی ہیں اور اس سے ملک میں پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ ادھر انتظامیہ نے شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر رکھے ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اہم شاہراہوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس گرفتاری کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان محاذ آرائی میں مزید تیزی آسکتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے ملک بھر میں احتجاجی لہر کو تیز کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔