Politics
اسلام آباد میں پرتشدد احتجاج پر پابندی، حکومت کا سخت مؤقف
وفاقی وزراء نے واضح کیا ہے کہ ریاست پاکستان کے دارالحکومت میں کسی بھی پرتشدد احتجاج یا مارچ کو ہر ممکن طریقے سے روکا جائے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی سیاسی احتجاج کے حوالے سے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے مجوزہ احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر اپنی حکمت عملی سخت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں کسی بھی پرتشدد گروہ یا جتھے کو داخل ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ ریاست اپنی رٹ کو برقرار رکھنے کے لیے تمام آئینی اور قانونی اختیارات بروئے کار لائے گی اور امن عامہ کو سبوتاژ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات اور دیگر رہنماؤں نے اپنے بیانات میں واضح کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور شہر کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ادھر وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والوں کو روکنے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدام اٹھائے گی تاکہ شہریوں کے معمولات زندگی اور کاروبار متاثر نہ ہوں۔ حکومتی عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے، لیکن شہر کو یرغمال بنانے یا قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ سکیورٹی اداروں کو اس حوالے سے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وفاقی دارالحکومت میں سیاسی احتجاج اور دھرنوں کے حوالے سے سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ عدالت عالیہ کا فیصلہ ہے کہ سیاسی سرگرمیوں سے عام شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنا انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہر کے اہم تنصیبات اور ریڈ زون کی سکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کو یقینی بنائے تاکہ امن و امان کی صورتحال ہر صورت قابو میں رہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے بھی اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ ریاست پی ٹی آئی کے ستمبر کے احتجاج کے دوران اپنی مکمل رٹ نافذ کرے گی۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور قانون کی عملداری ہر قیمت پر یقینی بنائی جائے گی۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے دی گئی ان تنبیہوں کے بعد سیاسی گلیاروں میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور آئندہ دنوں میں سیاسی صورتحال کے مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔