World
ماسکو پر یوکرین کا سب سے بڑا ڈرون حملہ اور جانی نقصان
یوکرین نے روس کے دارالحکومت ماسکو پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کرتے ہوئے سینکڑوں ڈرونز داغ دیے ہیں جس کے نتیجے میں تیل کی تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑے حملے کے دوران ماسکو کے قریب دو افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
روس کے دارالحکومت ماسکو کو اب تک کے سب سے بڑے اور شدید ڈرون حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں یوکرین کی جانب سے بیک وقت سینکڑوں ڈرونز داغے گئے۔ ذرائع کے مطابق روسی پارلیمانی انتخابات کے تیسرے روز ہونے والے اس حملے نے پورے سکیورٹی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حملے کے نتیجے میں ماسکو کے قریب واقع ایک اہم تیل کی ریفائنری میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جو شہر کو چالیس فیصد تک ایندھن فراہم کرتی ہے۔
ماسکو کے میئر اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی فضائی کارروائی میں کم از کم دو افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ فضائی دفاعی نظام نے درجنوں ڈرونز کو ہوا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس کے باوجود کئی ڈرونز اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے جن میں اہم توانائی تنصیبات بھی شامل ہیں۔
برطانوی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حملے میں یوکرین نے جدید جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ڈرونز کا استعمال کیا بلکہ جنگ کے دوران پہلی بار بیلسٹک میزائلوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ اس صورتحال نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں دارالحکومت کو براہ راست اتنے بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
روسی حکام نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کے بڑے حملوں سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور جنگ کے پھیلنے کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ سکیورٹی اداروں نے ماسکو میں الرٹ جاری کر دیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔