World
امریکہ ایران جنگ: تہران کی نئی شرائط اور تازہ ترین صورتحال
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے پہلے میدانِ جنگ میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے لیے مبینہ طور پر سات شرائط پیش کی گئی ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا انتباہ بھی دیا گیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت ایک نیا موڑ آ گیا ہے جب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے حوالے سے سخت شرائط پیش کی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کی جانب سے امریکہ کو مذاکرات کے لیے سات مطالبات یا شرائط ارسال کی گئی ہیں اور اب ایران کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی بامعنی سفارتی عمل سے پہلے میدانِ جنگ میں کامیابی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اندر ہونے والے اجلاسوں اور مباحثوں میں اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے ملک کی موجودہ جوہری پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو بیک وقت دفاعی تیاری اور سیاسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک تہران کے تمام مطالبات اور شرائط کو تسلیم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک اہم تجارتی اور تیل کی ترسیل کے راستے یعنی آبنائے ہرمز کو بند رکھا جائے گا، جس سے عالمی منڈی میں توانائی کے بحران کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی برادری اور مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ خلیجی خطے میں کشیدگی میں اضافے سے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی طرف سے فی الحال ان نئی ایرانی شرائط اور سات مطالبات پر کوئی حتمی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم واشنگٹن میں اعلیٰ سطح پر مشاورتی عمل جاری ہے۔ خطے میں امن کے قیام کے لیے مختلف ممالک سفارتی سطح پر رابطے بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس ممکنہ تصادم کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور ایک مستقل حل تلاش کیا جا سکے، لیکن ایران کے سخت مؤقف نے فی الحال سفارتی پیشرفت کو ایک کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔