LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس اور ایجنٹس کی ٹیکنالوجی جنگ

News Image
ٹیکنالوجی کمپنیاں اب ایسے جدید مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس تیار کر رہی ہیں جو صارفین کی ذاتی زندگی اور روزمرہ کے امور میں گہرا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس نئی دوڑ میں رازداری اور سیکیورٹی کے حوالے سے اہم سوالات بھی اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت ایک نئی اور شدید جنگ کا آغاز ہو چکا ہے جس کا مقصد انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس اور ایجنٹس تیار کرنا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور تحقیقی لیبارٹریاں ایسے جدید سسٹمز متعارف کروا رہی ہیں جو نہ صرف آپ کے روزمرہ کے معمولات کو سمجھ سکتے ہیں بلکہ آپ کے پاس ورڈز اور نجی ڈیٹا تک بھی رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صورتحال نے صارفین کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے کہ آیا انہیں اپنے ڈیجیٹل اثاثے اور ذاتی معلومات اس قسم کے خودکار نظاموں کے حوالے کر دینی چاہئیں یا نہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی لیبارٹریاں اب ان ایجنٹس پر سے اپنا کنٹرول کھوتی جا رہی ہیں جبکہ وہ خود ان سسٹمز کو صارفین کی زندگی پر مزید اختیارات دینا چاہتی ہیں۔ ایریسن اور دیگر اداروں کی رپورٹس کے مطابق آنے والے چند سالوں میں سمارٹ فون استعمال کرنے والے کروڑوں افراد اس نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی توقع کر رہے ہیں۔ سنہ دو ہزار تیس تک دنیا میں اے آئی کا اثر و رسوخ انتہائی وسیع ہو جائے گا جس سے انسانوں کے رہنے اور کام کرنے کا انداز بالکل بدل جائے گا۔ اس تمام صورتحال میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ کمپنیاں صارفین کی رازداری اور ڈیٹا سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کی یہ سہولت کسی بڑے خطرے میں تبدیل نہ ہو۔