Politics
ٹرمپ کا نیا فوجی کمپلیکس اور فاتحانہ آرچ کا منصوبہ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا مجوزہ فاتحانہ آرچ گولہ بارود ذخیرہ کرنے کے لیے ایک فوجی کمپلیکس کے طور پر بھی استعمال ہوگا۔ یہ اپ ڈیٹ شدہ منصوبے امریکی فوج کی درخواست اور ملکی سلامتی کے پیش نظر تیار کیے گئے ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک نئے بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے مجوزہ فاتحانہ آرچ کو اب دوہرے مقصد کے حامل انفراسٹرکچر کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ اس عمارت کو نہ صرف ایک یادگار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ یہ ایک فعال فوجی کمپلیکس کے طور پر بھی کام کرے گی جہاں اہم دفاعی ساز و سامان اور گولہ بارود کو محفوظ رکھا جا سکے گا۔ اس نئے اور منفرد منصوبے نے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے ان اپ ڈیٹ شدہ اور نظرثانی شدہ منصوبوں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تبدیلی امریکی فوج کی براہ راست درخواست پر کی گئی ہے۔ فوجی حکام کا ماننا ہے کہ اس مقام پر اس طرح کی تنصیبات کی موجودگی ملکی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے اور یہ دفاعی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گی۔ اس سے قبل یہ منصوبہ صرف ایک تعمیری اور ثقافتی یادگار کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد تاریخی فتوحات کو اجاگر کرنا تھا۔
نئے خاکے کے مطابق اب اس یادگار کے اندرونی اور زیر زمین حصوں کو اس طرح سے ڈیزائن کیا جائے گا کہ وہاں جدید ترین دفاعی آلات اور رسد کو باآسانی ذخیرہ کیا جا سکے۔ ناقدین اور حامی دونوں کی طرف سے اس منصوبے پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں ایک طرف سکیورٹی ماہرین اسے دفاعی نقطہ نظر سے مفید قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف شہری حقوق کی تنظیمیں اس کے شہری علاقوں پر اثرات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ قدم قومی مفاد اور دفاعی تیاریوں کو مزید مستحکم کرنے کی ایک کڑی ہے۔