LIVE
Loading Breaking News...

یہودی اور مسلمان تعلقات اور صہیونیت کا اثر

News Image
مختصر سیریز ڈیجا وو میں ربی حایم صوفر نے نیٹوری کارتا تحریک کی تاریخ اور صہیونیت کی مخالفت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ دستاویزی سلسلہ تاریخی تنازعات اور صدیوں پرانے مشترکہ ورثے کا احاطہ کرتا ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہودی اور مسلمان برصغیر، مشرق وسطیٰ اور ہسپانیہ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں صدیوں تک پُرامن طریقے سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ دونوں مذاہب کے درمیان فکری اور سماجی سطح پر گہرے روابط رہے ہیں، جہاں انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ علمی، ثقافتی اور تجارتی تبادلے کیے۔ اس طویل تاریخی سفر میں مذہبی تنوع کے باوجود باہمی رواداری اور بقائے باہمی کی ایک مضبوط روایت قائم رہی تھی، جو کہ بعد کی سیاسی تبدیلیوں سے خاصی متاثر ہوئی۔ موجودہ دور میں اس بات پر گہری بحث کی جاتی ہے کہ آیا صہیونیت کے ابھرنے اور اس کی سیاسی بابتوں نے ان صدیوں پرانے تاریخی رشتوں میں دراڑ ڈالی یا نہیں۔ اس موضوع پر وقتاً فوقتاً مختلف مباحثے اور دستاویزی پروگرام پیش کیے جاتے ہیں جو اس تعلق کی پیچیدگیوں کو سامنے لاتے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر، ڈیجا وو (Deja Vu) کے نام سے پیش کی جانے والی کاوشوں میں ربی حایم صوفر نے اس بات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح نیٹوری کارتا (Neturei Karta) جیسی مذہبی یہودی تحریک نے صہیونیت کی بھرپور مخالفت کی۔ نیٹوری کارتا کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ روایتی یہودیت سیاسی صہیونیت اور اسرائیل کے قیام کی مخالفت کرتی ہے، کیونکہ یہ مذہبی اصولوں کے منافی ہے۔ اس پروڈکشن میں اس تاریخی حقیقت کو ابھارا گیا ہے کہ صہیونیت کے نظریات نے کس طرح نہ صرف عالمی سطح پر سیاسی منظر نامے کو بدلا بلکہ روایتی یہودی اور مسلم برادریوں کے مابین قائم صدیوں پرانے سماجی تانے بانے کو بھی گہرے صدمات سے دوچار کیا۔ یہ دستاویزی مواد اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح سیاسی تحریکیں مذہب کی بنیاد پر معاشروں میں تقسیم پیدا کرتی ہیں، جبکہ عوامی سطح پر اب بھی پرانے تاریخی رشتوں کی بازیافت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ربی حایم صوفر کا یہ کام اس تنازع کو سمجھنے کے لیے ایک نیا زاویہ فراہم کرتا ہے، جس میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا اس سیاسی نظریے کو ہٹا کر ماضی کے مشترکہ امن اور ہم آہنگی کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔