LIVE
Loading Breaking News...

نیتنیاہو کا مسجد اقصی کے نیچے سرنگوں کا دورہ - نکسورا نیوز

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصی کے احاطے کے نیچے واقع سرنگوں کا دورہ کیا۔ اس دورے کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو نے اپنی اہلیہ سارہ نیتنیاہو کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصی کے احاطے کے نیچے واقع تاریخی سرنگوں کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد علاقائی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مسجد اقصی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے اور اس کے احاطے کے اردگرد یا نیچے اس قسم کی سرگرمیوں کو ہمیشہ سے انتہائی حساس نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے ہوئے تھے تاکہ وزیر اعظم اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔ اس دورے کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاہم فلسطینی حکام اور مسلم دنیا کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کو مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور مقدس مقام کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی سازش قرار دیا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی اس قسم کے دورے یا سرنگوں کے حوالے سے ہونے والی کھدائیاں شدید تنازعات کا شکار رہی ہیں جن کی وجہ سے فلسطینیوں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں اس قسم کے دورے خطے میں امن کی کوششوں کو مزید سبوتاژ کر سکتے ہیں اور پہلے سے موجود کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ کر سکتے ہیں۔ فلسطینی وزارت خارجہ اور دیگر تنظیموں نے اس دورے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے تاکہ مقبوضہ بیت المقدس اور بالخصوص مسجد اقصی کے تقدس کو پامال ہونے سے بچایا جا سکے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ دورہ ان کے معمول کے سیکورٹی اور تاریخی دوروں کا حصہ تھا، جس پر غیر ضروری شور مچایا جا رہا ہے۔