World
ایران میں مہنگائی اور جنگ کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر کا رجحان
ایران میں جاری شدید مہنگائی اور معاشی بحران نے نوجوانوں کی زندگی اور مستقبل کے فیصلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جنگ اور مالی مشکلات کی وجہ سے شادی جیسے بنیادی فیصلوں کو موخر کرنا پڑ رہا ہے۔
تہران: ایران میں جاری معاشی بحران اور مہنگائی نے نوجوان نسل کی زندگی کے خوابوں اور روزمرہ کے فیصلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اقتصادی غیر یقینی کی وجہ سے ملک میں شادی کے روایتی تصورات اور شرائط میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں، اور بہت سے نوجوان مالی مشکلات کے باعث شادی کے فیصلے کو موخر کرنے پر مجبور ہیں۔
ملک میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے نو جوانوں کے لیے نیا گھر بسانا یا شادی کے اخراجات اٹھانا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ اقتصادی دباؤ اور جنگی خطرات کے اثرات براہ راست عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہے ہیں، بالخصوص وہ جو شروعاتی کریئر یا تعلیم کے مراحل میں ہیں، انہیں شدید نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔
حکومتی اعداد و شمار اور سماجی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شادی کی اوسط عمر میں اضافہ ہو رہا ہے اور طلاق کی شرح پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے انہیں ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ نوکریوں کی کمی اور تنخواہوں میں کم اضافے کے ساتھ اخراجات پورے کرنا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔
اس صورتحال نے نہ صرف خاندانوں کی روایتی حرکیات کو بدل دیا ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی گہرے نق چھوڑے ہیں۔ اگر فوری طور پر معاشی بہتری کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو ایران کی نوجوان نسل کو مزید سنگین سماجی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ملک کے مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔