LIVE
Loading Breaking News...

ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، رہائشی عمارت تباہ

News Image
یوکرین کی جانب سے روس کے دارالحکومت ماسکو کو ایک ہزار سے زائد ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا اور دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے۔
روس کے دارالحکومت ماسکو کو حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے فضائی حملوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں یوکرین کی جانب سے ایک ہزار سے زائد ڈرونز کے ذریعے زبردست حملہ کیا گیا۔ روسی حکام کے مطابق اس بڑے پیمانے پر کیے گئے حملے کا مقصد اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا اور دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ حملے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ متعدد مقامات پر فضائی دفاعی نظام کو فعال کرنا پڑا جنہوں نے درجنوں ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ اس حملے کی ایک انتہائی ڈرامائی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون سیدھا ماسکو کی ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت سے ٹکراتا ہے اور ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتا ہے۔ واقعے کے بعد عمارت کے مکینوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے سے عمارت کے ایک حصے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی کھڑکیوں کے شیشه ٹوٹ گئے ہیں۔ تاہم، مقامی حکام کی جانب سے جانی نقصان کے بارے میں حتمی اعداد و شمار تاحال جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب، اس ڈرون حملے کے بعد ماسکو کے اہم ہوائی اڈوں پر فضائی ٹریفک کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تاکہ مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں دارالحکومت پر یہ حملہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں ایک خطرناک اور نئے اضافے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کا اس پیمانے پر استعمال جنگ کی نوعیت کو بدل رہا ہے۔ ادھر، روسی وزارت دفاع نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی کار قرار دیا ہے اور اس کا بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ عالمی سطح پر اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عام شہریوں کی زندگیاں براہ راست خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ بین الاقوامی برادری ایک بار پھر جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے، لیکن دونوں فریقین کی جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔