World
غزہ کے بچے تباہ شدہ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے واپس پہنچ گئے
اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے اسکولوں کے باوجود غزہ کے بچوں نے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ قدم فلسطینی بچوں کے عزم اور تعلیم کے حصول کی لگن کو ظاہر کرتا ہے۔
غزہ کی پٹی میں طویل عرصے سے جاری اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تعلیمی نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا تھا، تاہم اب تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود غزہ کے بچے دوبارہ کلاس رومز کا رخ کرنے لگے ہیں۔ سالوں کے مسلسل حملوں کی وجہ سے خطے کی اکثر تعلیمی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور بچوں کے لیے بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے، لیکن اس کے باوجود تعلیم سے محبت کرنے والے ان بچوں نے ہمت نہیں ہاری۔ مختلف بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں کی جانب سے عارضی سیکھنے کے مراکز اور خیمہ اسکول قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ بچوں کا تعلیمی سال مکمل ضائع نہ ہو۔ ان عارضی کلاسوں میں بنیادی خواندگی اور ریاضی کے ساتھ ساتھ بچوں کو نفسیاتی مدد بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ جنگ کے ہولناک اثرات سے باہر نکل سکیں۔ اساتذہ اور والدین کا کہنا ہے کہ یہ قدم بچوں کے مستقبل کو بچانے اور خطے میں امید کی نئی شمع روشن کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کے تعلیمی انفراسٹرکچر کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ہزاروں بچے اب بھی کھلے آسمان تلے یا غیر محفوظ عمارتوں میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جنگ سے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر نو کے لیے مالی اور تکنیکی امداد فراہم کریں تاکہ غزہ کے ہر بچے کو محفوظ ماحول میں معیاری تعلیم کا حق مل سکے۔