World
شمالی کوریا کی جانب سے مشرقی سمندر میں نئے بلیسٹک میزائل کا تجربہ
شمالی کوریا نے اتوار کے روز مشرقی سمندر کی طرف ایک اور بلیسٹک میزائل فائر کیا ہے جس کی جنوبی کوریا اور جاپان نے تصدیق کی ہے۔ یہ کارروائی پیانگ یانگ کی جانب سے اپنے جوہری ریاست کے موقف کو برقرار رکھنے اور اقوام متحدہ کے نگراں ادارے کی قرارداد مسترد کرنے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔
جنوبی کوریا کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے ایک بلیسٹک میزائل فائر کیا ہے۔ یہ تازہ ترین میزائل تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے چند روز قبل ہی پیانگ یانگ نے باضابطہ طور پر اپنی جوہری مسلح ریاست کی حیثیت کو ایک بار پھر دہرایا تھا۔ یہ کارروائی اس واقعے کے آٹھ دن بعد ہوئی جب شمالی کوریا نے مشرقی سمندر کی طرف متعدد کم فاصلے تک مار کرنے والے بلیسٹک میزائل داغے تھے، جسے بعد میں ایک مشترکہ فائر پاور ڈرل کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ اقدام پیانگ یانگ کی طرف سے اس ہفتے اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کی اس قرارداد کو مسترد کرنے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں شمالی کوریا سے اپنی جوہری سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی فوج نے اتوار کو دوپہر کے قریب شمالی کوریا کے شہر وونسن کے علاقے سے مشرقی سمندر کی جانب داغے جانے والے اس بلیسٹک میزائل کا پتہ لگایا۔ عسکری حکام کے مطابق، ممکنہ مزید میزائل تجربات کے پیش نظر نگرانی اور چوکسی کے نظام کو مزید سخت کر دیا گیا ہے جبکہ جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان اس معاملے پر مسلسل معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ جاپانی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی اس میزائل لانچ کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ یہ ایک مشتبہ بلیسٹک میزائل تھا۔ جاپانی وزارت دفاع نے بعد میں تصدیق کی کہ یہ پراجیکٹائل سمندر میں گر چکا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس پیش رفت کے بعد جنوبی کوریا کے صدارتی قومی سلامتی دفتر نے فوری طور پر ایک ہنگامی سکیورٹی میٹنگ طلب کی تاکہ ملک کی سلامتی پر اس کے اثرات کا جائزہ لے کر مناسب ردعمل کا تعین کیا جا سکے۔ جنوبی کوریا کی حکومت نے شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ اس طرح کے میزائل تجربات کو فوری طور پر بند کرے اور اس عمل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ یاد رہے کہ شمالی کوریا نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے جنرل کانفرنس کے دوران اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی کوششوں پر شدید تنقید کی تھی۔ شمالی کوریا کی قیادت پہلے ہی اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کو ناقابل تنسیخ قرار دے چکی ہے اور خطے میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔