LIVE
Loading Breaking News...

ایڈ شیرن کا غزہ صورتحال پر اظہارِ خیال، میکلمور تنازع پر معذرت

News Image
برطانوی پاپ اسٹار ایڈ شیرن نے فلسطینیوں کے حامی ریپر میکلمور کو کنسرٹ سے ہٹائے جانے کے تنازع پر مداحوں سے معذرت کر لی ہے۔ انہوں نے فلاڈیلفیا میں اپنے کنسرٹ کے دوران غزہ میں اسرائیل کے فوجی اقدامات کو خوفناک اور ناقابلِ جواز قرار دیا۔
برطانوی پاپ اسٹار ایڈ شیرن نے ہفتے کے روز اس تنازع پر کھل کر بات کی جو ریپر میکلمور کو فلسطین کے حق میں بیانات دینے پر کنسرٹ ٹور سے ہٹائے جانے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ فلادلفیا میں اپنے کنسرٹ کے دوران، جہاں انہوں نے میکلمور کی علیحدگی کے بعد پہلی بار پرفارم کیا، ایڈ شیرن نے غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ناقابلِ جواز قرار دیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں مشکل فیصلے کرنا پڑے ہیں اور اس پورے معاملے میں ان سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں جس پر وہ شرمندہ ہیں۔ کنسرٹ کے آغاز میں دیے گئے اپنے بیان میں ایڈ شیرن نے اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کو بھی ہولناک قرار دیا جس میں اسرائیلی شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس کے جواب میں شروع کی جانے والی اسرائیلی فوجی کارروائی کو تباہ کن، غیر متناسب اور ناقابلِ جواز قرار دیا جس کے نتیجے میں غزہ میں ہزاروں افراد ہلاک اور پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ برطانوی گلوکار نے مغربی کنارے میں جاری نظامی ناانصافیوں اور وہاں اسرائیلی حکومت کی جانب سے یہودی بستیوں کی توسیع پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ بیان ایڈ شیرن کے اس مؤقف سے بالکل مختلف تھا جو انہوں نے ہفتے کے آغاز میں انسٹاگرام پر دیا تھا، جہاں ان کا کہنا تھا کہ ان کے کنسرٹس کے سامعین کسی سیاسی پلیٹ فارم کی توقع نہیں رکھتے۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ریپر میکلمور نے انکشاف کیا کہ نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کے مالک رابرٹ کرافٹ نے ایڈ شیرن کو بتایا تھا کہ اگر میکلمور نے اپنے کنسرٹ کے دوران فری فلسطین کا نعرہ لگایا ہے تو انہیں مزید پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس دباؤ کے بعد دیگر معاون فنکاروں نے بھی یکجہتی کے طور پر ٹور چھوڑ دیا تھا۔ اسٹیڈیم کے مالکان کے دباؤ کے آگے جھکنے کے باوجود، ایڈ شیرن نے اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی کہ کس طرح آرٹسٹوں کے مندرجات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، اور کہا کہ یہ آزاد دنیا کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس تمام تر تنازع کے باوجود فلادلفیا کے کنسرٹ میں شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی جن میں سے کچھ کا کہنا تھا کہ وہ صرف موسیقی سے لطف اندوز ہونے آئے ہیں۔ کنسرٹ کے باہر درجنوں پرو-فلسطین مظاہرین نے بھی جمع ہو کر غزہ کے حالات پر روشنی ڈالی اور مقامی سطح پر فلسطینیوں کی حمایت کا مطالبہ کیا۔