LIVE
Loading Breaking News...

ایمازون اور ایپل کے اے آئی منصوبے اور نئی حکمت عملی

News Image
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے وال اسٹریٹ کو اپنی مالیاتی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا ہے۔ اس دوران ایمازون اور ایپل کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے اہم حکمت عملیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔
دنیا کی صف اول کی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے رواں ہفتے وال اسٹریٹ کو اپنی مالیاتی صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا ہے۔ ان بڑی کمپنیوں میں مائیکروسافٹ، میٹا، گوگل، ایپل اور ایمازون کے نام سرفہرست ہیں، جنہوں نے اپنے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ وہ آنے والے وقت میں کس طرح ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں ایک عام اور نمایاں دھاگہ جو تمام کمپنیوں کے بیانات میں مشترکہ طور پر دیکھا گیا، وہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی ترقی اور اس میں کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری ہے۔ اس حوالے سے خاص طور پر ایمازون اور ایپل کے منصوبوں نے تکنیکی ماہرین اور سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ دونوں اداروں نے اپنے حالیہ اپڈیٹس میں واضح کیا ہے کہ وہ اے آئی کی اس دوڑ میں پیچھے رہنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ایمازون اپنے کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ای کامرس کے شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو مزید وسعت دے رہا ہے، تاکہ صارفین کو زیادہ بہتر اور ذاتی نوعیت کے تجربات فراہم کیے جا سکیں۔ دوسری جانب، ایپل بھی اپنے سسٹمز میں جدید ترین مصنوعی ذہانت کی خصوصیات کو شامل کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے، جس سے دنیا بھر کے صارفین کی روزمرہ زندگی میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان بڑی ٹیک کمپنیوں کے حالیہ اعلانات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت ہی کاروباری دنیا کا سب سے بڑا محرک ہوگی۔ کمپنیاں اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں تاکہ مارکیٹ میں اپنی برتری قائم رکھی جا سکے۔ اگرچہ اس تمام عمل کے دوران اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم کمپنیاں اسے ایک طویل مدتی اور ضروری سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہی ہیں جو مستقبل کے منافع کو یقینی بنائے گی۔ مجموعی طور پر، ایمازون اور ایپل کی جانب سے سامنے آنے والی یہ نئی تفصیلات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا اب مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ عام صارفین کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں انہیں زیادہ ذہین، تیز رفتار اور کارآمد آلات اور خدمات دیکھنے کو ملیں گی، جو نہ صرف ان کے کام کرنے کے انداز کو بدلیں گی بلکہ ان کی ڈیجیٹل زندگی کو بھی مزید آسان بنا دیں گی۔