Pakistan
ہنگو میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کا مقابلہ، چھ جوان شہید آٹھ ہلاک
خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں دو افسران سمیت چھ جوان شہید ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں آٹھ دہشت گرد بھی ہلاک کر دیے گئے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین ایک شدید فائرنگ کے تبادلے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے دوران پاک فوج کے دو افسران سمیت کل چھ جوان جام شہادت نوش کر گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ہنگو کے علاقے میں ایک کامیاب کارروائی کی، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع تھی۔ فورسز نے جب علاقے کو گھیرے میں لیا تو دہشت گردوں کی طرف سے فائرنگ شروع کر دی گئی۔
فائرنگ کے اس تبادلے میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے انتہائی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس شدید مقابلے کے دوران پاک فوج کے کیپٹن ابوزر فاروق اور لیفٹیننٹ شیراز بابر سمیت چار دیگر جوانوں نے مادرِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ پاک فوج کے ان بہادر سپوتوں کی قربانیوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ملک کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی موثر اور فوری جوابی کارروائی کے نتیجے میں آٹھ دہشت گرد بھی جہنم واصل کر دیے گئے، جن کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ، بارودی مواد اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ علاقے میں سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ فرار ہونے والے دہشت گرد کو حراست میں لیا جا سکے یا ختم کیا جا سکے۔
دریں اثنا، صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان سمیت اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت نے ہنگو میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ رہنماؤں نے شہداء کی قربانیوں کو زبردست الفاظ میں سراہا اور کہا کہ پوری قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ رہنماؤں کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو اس کی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔