Pakistan
سعودی عرب کے دفاع پر پاکستان کا مؤقف، حوثی حملوں کے بعد عزم کا اعادہ
یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی معاہدوں اور عزم کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے تحفظ اور دفاع کے لیے پاکستان کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر کیے جانے والے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں، پاکستان کی دفاعی وابستگیوں اور عزم پر بین الاقوامی سطح پر بحث اور تجزیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی اور بقا کے ساتھ پاکستان کا رشتہ انتہائی گہرا اور غیر متزلزل ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں زور دے کر کہا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے پاکستان کا عزم مکمل طور پر غیر مشروط ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان خلیجی ریاست کی جغرافیائی سلامتی اور حرمین شریفین کے تقدس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہے، اور کسی بھی خطرے کی صورت میں دونوں ممالک کے دیرینہ فوجی تعاون کا بھرپور مظاهرہ کیا جائے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، حالیہ علاقائی کشیدگی اور حوثی حملوں میں اضافے کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدوں کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان تزویراتی تعلقات خطے میں امن اور توازن برقرار رکھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تربیت، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ فوجی مشقیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ملک کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
حالیہ رپورٹس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو ہمیشہ اولین ترجیح دی گئی ہے۔ خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باوجود، پاکستانی عسکری حکام کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین دفاعی اور سٹریٹجک شراکت داری مستقبل میں بھی اتنی ہی مضبوط رہے گی جتنی ماضی میں تھی۔