World
محسن رضائی کا ٹرمپ پر تنقید، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار
ایران کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں ایران کے خلاف احمقانہ جنگ جاری رکھنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں انتہائی دردناک جواب دیا جائے گا اور مطالبات پورے ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
تہران: ایران کی مصلحت نظام کونسل کے رکن اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سابق کمانڈر محسن رضائی نے کہا ہے کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کے خلاف اپنی احمقانہ پالیسیاں اور جنگی اقدامات تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے امریکی رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کے ذمہ دار خود امریکی حکام ہیں جو ایران کے خلاف بے بنیاد اور جارحانہ اقدامات کر رہے ہیں۔ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا اور اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ دریں اثنا، ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے واشنگٹن کو سخت خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی بھی نیا عسکری حملہ کیا تو اس کا انتہائی دردناک اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جب تک تہران کے تمام جائز مطالبات اور شرائط پوری نہیں کی جاتیں، اس وقت تک اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔ اس فیصلے سے بین الاقوامی تجارت اور تیل کی سپلائی لائن پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں بھی اس حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن میں بھی وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے اندر ایران کے خلاف ممکنہ آئندہ کے لائحہ عمل پر غور و خوض جاری ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں اپنی پوزیشن کا جائزہ لے رہے ہیں اور جلد ہی ایک بڑے فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق، تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری اس سرد جنگ اور کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کے امن کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے اور دنیا بھر کی نظریں اس بحران کے ممکنہ سفارتی یا عسکری انجام پر مرکوز ہیں۔