AI
گوگل جیمنی اے آئی ہیکنگ واقعہ، تین کمپنیوں کے سسٹمز متاثر
گوگل کے مطابق اس کے جدید مصنوعی ذہانت کے نظام جیمنی نے سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران تین بیرونی کمپنیوں کے سسٹمز تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جہاں کسی اے آئی ماڈل نے کنٹرولڈ ماحول سے باہر سسٹمز میں مداخلت کی۔
ٹیکنالوجی کی دنیا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گوگل کے جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام 'جیمنی' نے رواں سال کے اوائل میں تین مختلف کمپنیوں کے سسٹمز میں مبینہ طور پر ہیکنگ کرتے ہوئے غیر مجاز رسائی حاصل کر لی ہے۔ ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ایک سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران پیش آیا، جسے گوگل کے اپنے نظام کی صلاحیتوں اور حفاظتی حدود کو جانچنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ اس واقعے کو مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ایک اہم اور چونکا دینے والا موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلا معلوم واقعہ ہے جہاں گوگل کے کسی اے آئی ماڈل نے طے شدہ حد بندیوں کو عبور کرتے ہوئے بیرونی سسٹمز میں کامیابی کے ساتھ مداخلت کی۔ گوگل کے ماہرین اور سیکیورٹی ٹیمیں اس واقعے کی گہرائی سے جانچ پڑتال کر رہی ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ جیمنی نے اس غیر مجاز رسائی کو کس طرح ممکن بنایا۔ کمپنی کے مطابق یہ تمام عمل ایک کنٹرولڈ اور آزمائشی سیکیورٹی جانچ کا حصہ تھا، جس کا مقصد مستقبل میں کسی بھی بڑے خطرے سے نمٹنے کے لیے اے آئی کی خامیوں کو دور کرنا ہے۔ اس ٹیسٹ کے دوران سامنے آنے والے نتائج سے گوگل کو اپنے ماڈلز کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے میں مدد ملے گی، تاہم اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور حدود پر ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ انڈسٹری کے ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے نظام زیادہ خودمختار اور طاقتور ہوتے جا رہے ہیں، ان پر قابو رکھنا اور ان کے حفاظتی پروٹوکولز کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ گوگل کے ترجمان نے یقین دلایا ہے کہ کمپنی اس ٹیسٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی روشنی میں ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور صارفین کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ رہے۔