LIVE
Loading Breaking News...

فورڈ کے عہدیدار نے کلاؤڈ کے بجائے چیٹ جی پی ٹی کو فیملی اسسٹنٹ بنالیا

News Image
فورڈ موٹر کمپنی کے ایک اعلیٰ کارپوریٹ عہدیدار نے اپنی گھریلو مصروفیات اور فیملی اسسٹنٹ کے طور پر انترھوپک کے اے آئی ماڈل کلاؤڈ کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ اب وہ ذاتی اور گھریلو امور میں بہتر معاونت کے لیے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کر رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے دوران ایک دلچسپ اور اہم تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں فورڈ موٹر کمپنی کے ایک سینئر ایگزیکٹو نے اپنے گھریلو اور ذاتی امور کے لیے معروف مصنوعی ذہانت کے ماڈل 'کلاؤڈ' کو چھوڑ کر 'چیٹ جی پی ٹی' کو اپنا فیملی اسسٹنٹ بنا لیا ہے۔ اس تبدیلی کو مصنوعی ذہانت کے مختلف پلیٹ فارمز کے درمیان بڑھتے ہوئے مسابقتی ماحول کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں صارفین اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے بہترین اور قابل بھروسہ اے آئی ٹول کا انتخاب کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ گھریلو سطح پر مختلف کاموں کی انجام دہی، بچوں کی تعلیم میں مدد، اور خاندانی نظام الاوقات کو منظم کرنے کے لیے کیا گیا۔ اوپن اے آئی کا تیار کردہ چیٹ جی پی ٹی اپنی ورائٹی، تیز رفتار رسپانس اور متنوع فیچرز کی وجہ سے صارفین میں بالخصوص مقبول ہے، جس نے روایتی اسسٹنٹ کے مقابلے میں صارفین کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب اینتھروپک کا تیار کردہ اے آئی ماڈل کلاؤڈ بھی اپنی سکیورٹی اور طویل متن کو سمجھنے کی صلاحیت میں اپنی مثال آپ ہے، تاہم ذاتی فیملی اسسٹنٹ کے طور پر ترجیحات وقت کے ساتھ بدل رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے فیصلے عام صارفین کے لیے بھی ایک مثال بنتے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اے آئی ٹولز اب محض دفاتر یا کاروباری مراکز تک محدود نہیں رہے بلکہ عام انسانوں کی روزمرہ گھریلو زندگی کا لازمی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ فورڈ کے عہدیدار کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مختلف اے آئی ماڈلز کی کارکردگی کو اب عملی زندگی کے نفاذ میں کس طرح پرکھا جا رہا ہے اور صارفین اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق بہترین سروس کا انتخاب کر رہے ہیں۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ان پلیٹ فارمز کے درمیان مقابلہ مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ کمپنیاں اپنے اے آئی اسسٹو سسٹمز کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل اپ ڈیٹس اور نئے فیچرز متعارف کرا رہی ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کا بھی پتہ دیتی ہے کہ اے آئی مارکیٹ میں برتری حاصل کرنے کے لیے صرف تکنیکی برتری کافی نہیں بلکہ صارفین کا ذاتی تجربہ اور سہولت بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جس کی بنیاد پر اب فیصلے کیے جا رہے ہیں۔