World
ارل اسپینسر کا بی بی سی انٹرویو اور شاہی خاندان پر نئے انکشافات
پرنسس ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر نے ایک حالیہ انٹرویو میں شاہی خاندان کے رویے پر کڑے تنقیدی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے اس انٹرویو کے بعد برطانوی شاہی محل میں ایک بار پھر گرما گرمی اور چہ مگوئیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے گرد تنازعات کا گھیراؤ ایک بار پھر تنگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے جب پرنسس ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر نے بی بی سی کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے ماضی کے تلخ حقائق پر کھل کر بات کی اور شاہی خاندان کے اندرونی معاملات پر سے پردہ اٹھایا۔ ان کے انکشافات کے بعد برطانوی میڈیا میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے اور عوامی سطح پر بھی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ انٹرویو کے دوران ارل اسپینسر نے دعویٰ کیا کہ پرنسس ڈیانا کی المناک وفات کے بعد موجودہ شاہ چارلس نے ٹیلیفون پر انتہائی غصے کا اظہار کیا تھا اور وہ مبینہ طور پر ہوش کھو بیٹھے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں شاہی حلقوں کی طرف سے جو رویہ اختیار کیا گیا، وہ انتہائی افسوسناک اور دردناک تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے شہزادہ ہیری کے ساتھ جنازے کے دن مبینہ طور پر برتی گئی لاپرواہی اور عدم توجہی پر بھی روشنی ڈالی، جس سے شاہی خاندان کی اندرونی صف بندیوں پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ اس تازہ ترین تنازع نے ایک بار پھر میڈیا اور عوام کی توجہ ماضی کے ان زخموں کی طرف مبذول کرا دی ہے جو اب تک مندمل نہیں ہو سکے تھے۔ ذرائع کے مطابق شاہی محل اس انٹرویو کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ تجزیہ کار اسے شاہی تاریخ کا ایک اور حساس موڑ قرار دے رہے ہیں۔ ارل اسپینسر کی جانب سے کیے جانے والے انکشافات اور بیانات نے شاہی خاندان کی ساکھ اور عوامی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید لے دے ہونے کا امکان ہے کیونکہ برطانوی میڈیا اس موضوع پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔