Business
فیشن انڈسٹری کے سی ای او کا استعفیٰ پیٹا احتجاج کے تنازعے پر
کونسل آف فیشن ڈیزائنرز آف امریکہ کے سربراہ نے پیٹا کے مظاہرین کے ساتھ جھگڑے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ واقعہ نیویارک فیشن ویک کے رن وے شو کے دوران پیش آیا تھا جہاں جسمانی تصادم ہوا تھا۔
کونسل آف فیشن ڈیزائنرز آف امریکہ (سی ایف ڈی اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بیس سال تک اس اہم عہدے پر فائز رہنے کے بعد اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب چند روز قبل نیویارک فیشن ویک کے ایک بڑے رن وے شو کے دوران جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم 'پیٹا' (PETA) کے مظاہرین کے ساتھ ان کا ایک شدید جسمانی تصادم ہوا تھا۔ اس واقعے نے فیشن کی دنیا میں ہلچل مچا دی تھی اور ذرائع ابلاغ میں اس کی بازگشت طویل عرصے تک سنائی دیتی رہی۔
رپورٹس کے مطابق، نیویارک فیشن ویک کے شو کے دوران پیٹا کے کارکنان نے اچانک احتجاج شروع کر دیا تھا تاکہ فیشن انڈسٹری کی جانب سے جانوروں کی کھالوں کے استعمال پر تنقید کی جا سکے۔ اس دوران صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب ایگزیکٹو اسٹیون کولب نے مظاہرین کو زبردستی روکنے اور قابو کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران دونوں جانب سے ہاتھ پائی اور گرما گرمی ہوئی جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ فیشن انڈسٹری کے حلقوں میں اس پبلک تنازعے کو انتہائی منفی انداز میں دیکھا گیا اور ادارے کے وقار کو بچانے کے لیے دباؤ بڑھتا گیا۔
واقعے کے بعد پیٹا کی جانب سے باضابطہ بیانات جاری کیے گئے اور تنظیم نے اس فیشن ایگزیکٹو کے ساتھ ایک اہم ملاقات کا عندیہ بھی دیا تاکہ فیشن کے شعبے میں جانوروں کے حقوق کے تحفظ پر بات چیت کی جا سکے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا تشدد اور جسمانی تصادم کسی بھی ذمہ دار ایگزیکٹو کے شایانِ شان نہیں ہے، جس کے بعد بالاخر استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس پیش رفت سے امریکی فیشن کی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے کیونکہ موصوف دو دہائیوں سے اس منصب پر فائز رہ کر فیشن انڈسٹری کی پالیسیوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر رہے تھے۔
فی الحال کونسل آف فیشن ڈیزائنرز آف امریکہ کی جانب سے نئے عبوری سربراہ کے تقرر یا اس حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ فیشن انڈسٹری سے وابستہ دیگر تنظیموں اور برانڈز نے بھی اس واقعے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے، جبکہ جانوروں کے حقوق کے کارکنان نے اسے اپنی ایک اخلاقی فتح قرار دیا ہے۔ اس استعفیٰ کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا فیشن انڈسٹری مستقبل میں جانوروں کی کھالوں کے استعمال پر اپنی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی لاتی ہے یا نہیں۔