World
برائٹن ساحل حادثہ: تین بہنوں کی موت میں مجرمانہ عمل دخل نہیں
برطانوی علاقے برائٹن کے ساحل پر سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والی تینوں بہنوں کے معاملے پر سسیکس پولیس نے تفتیش مکمل کر لی ہے۔ پولیس کی حتمی تحقیقات کے مطابق اس اندوہناک واقعے کے پیچھے کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی یا سازش کا کوئی شہ نہیں ملا۔
برطانیہ کے علاقے برائٹن کے ساحل پر پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والی تینوں بہنوں کی موت کے معاملے میں مقامی پولیس نے اپنی تفتیش مکمل کر لی ہے۔ سسیکس پولیس کی جانب سے جاری کردہ حتمی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں کسی بھی قسم کی مجرمانہ کارروائی یا کسی دوسرے فرد کا عمل دخل پایا نہیں گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گہرائی سے کی گئی تحقیقات اور شواہد کے جائزے کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس المناک حادثے کے پیچھے کوئی کریمنل اینگل موجود نہیں ہے۔
یاد رہے کہ اس واقعے کے بعد سے مقامی سطح پر اور برطانوی میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، جن کے پیش نظر سسیکس پولیس نے اس معاملے کی انتہائی باریک بینی سے جانچ پڑتال کا آغاز کیا تھا۔ پولیس نے اس ضمن میں سی سی ٹی وی فوٹیجز، عینی شاہدین کے بیانات اور سائنسی شواہد کا بغور جائزہ لیا تاکہ حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے اور لواحقین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب شواہد اور طبی رپورٹس نے اس بات کی تائید کی ہے کہ یہ ایک حادثاتی موت تھی، جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔
پولیس حکام نے اس مشکل وقت میں جاں بحق ہونے والی تینوں بہنوں کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ پولیس نے عوام اور میڈیا سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس دلخراش واقعے کے حوالے سے غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں تاکہ سوگوار خاندان کی مزید ذہنی اذیت کا سبب نہ بنے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ تفتیش کا باضابطہ عمل مکمل ہو چکا ہے، تاہم متاثرہ خاندان کو ہر ممکنہ معاونت اور معاونتی خدمات فراہم کی جاتی رہیں گی تاکہ وہ اس بڑے صدمے سے باہر نکل سکیں۔