World
ٹرمپ کے ٹیرف کا اثر: کینیڈا کے ڈیری کسانوں کو بڑا دھچکا
امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پچاس فیصد ٹیرف نے کینیڈا کے ڈیری برآمدات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کسانوں کا دودھ بغیر فروخت کے بچ گیا ہے جسے راتوں رات دوسری جگہ منتقل کرنا ممکن نہیں ہے۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے جانے والے سخت تجارتی ٹیکسز نے کینیڈا کی معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، پچاس فیصد کے بھاری بھرکم ٹیرف کی وجہ سے کینیڈا کے ڈیری کسانوں کو شدید بحران کا سامنا ہے اور ان کی امریکی مارکیٹ میں ہونے والی تمام فروخت مکمل طور پر رک گئی ہے۔ اس اچانک قدغن کی وجہ سے کینیڈین کسانوں کے پاس کروڑوں لٹر دودھ اضافی بچ گیا ہے جس کی کھپت فوری طور پر مقامی سطح پر ممکن نہیں۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیری اور دودھ کا کاروبار ایک ایسا حساس شعبہ ہے جہاں مصنوعات کو فوری طور پر نئی منڈیوں میں منتقل کرنا تکنیکی اور انتظامی لحاظ سے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ کینیڈا کی ڈیری انڈسٹری طویل عرصے سے امریکی خریداروں پر انحصار کرتی رہی ہے، اور اس اچانک پابندی نے کسانوں کو شدید بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ متاثرہ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر فوری مداخلت اور امداد کے منتظر ہیں تاکہ ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔ دوسری جانب، اقتصادی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے ان سخت اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر اس معاملے کا کوئی سفارتی یا تجارتی حل جلد نہ نکالا گیا تو کینیڈا کے ڈیری کسانوں کو طویل المدتی معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے دودھ کی پیداوار اور اس کی قیمتیں بھی بری طرح متاثر ہوں گی۔