World
تیونس میں غزہ فلوٹیلا کارکنوں کی رہائی کے لیے احتجاج
تیونس کے دارالحکومت میں سینکڑوں شہریوں نے عالمی سمود فلوٹیلا کے چار زیر حتمی کارکنوں کی فوری رہائی کے لیے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنائے اور صیہونی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائے۔
تیونس کے دارالحکومت تیونس شہر میں سینکڑوں پرجوش شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اس مظاہرے کا بنیادی مقصد عالمی سمود فلوٹیلا کے چار کارکنوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرنا تھا جنہیں حال ہی میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ مظاہرین نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کارکنوں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ محاصرہ زدہ غزہ کے لیے امداد لے کر جا رہے تھے۔
احتجاجی مظاہرے کے دوران شرکاء نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور زیر حتمی کارکنوں کی رہائی کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر خاموشی توڑیں اور تیونس کے ان شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے اپنا سفارتی اور اخلاقی اثر و رسوخ استعمال کریں۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مختلف سماجی رہنماؤں اور کارکنوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ فلوٹیلا کے اراکین نے مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک تمام کارکنان کو رہا نہیں کیا جاتا، ان کا یہ پرامن احتجاجی سلسلہ ملک بھر میں جاری رہے گا۔ تیونس کے عوام ہمیشہ سے مسئلہ فلسطین کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں اور اس واقعے نے ایک بار پھر تیونسی عوام کے دلوں میں فلسطینی کاز کی گہرائی کو اجاگر کر دیا ہے۔