Pakistan
ہنگو دہشت گرد حملہ، دو افسران سمیت چھ سیکیورٹی اہلکار شہید، آٹھ دہشت گرد ہلاک
خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو افسران سمیت چھ جوان شہید ہوگئے۔ اس کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں آٹھ دہشت گرد بھی جہنم واصل ہوگئے ہیں۔
ترجمان پاک فوج کے ادارے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں اتوار کے روز سیکیورٹی فورسز کے قافلے اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس جھڑپ کے دوران دو افسران سمیت چھ جوانوں نے مادرِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی کے نتیجے میں آٹھ دہشت گرد بھی ہلاک ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ شہید ہونے والوں میں گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ کیپٹن ابوذر فاروق اور چکوال سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ لیفٹیننٹ شیراز بابر شامل ہیں، جو اپنی فورسز کی قیادت فرنٹ سے کر رہے تھے۔ ان جوانوں نے بہادری کی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنے چار دیگر ساتھیوں سمیت جامِ شہادت نوش کیا۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ تصاویر کے مطابق دیگر چار شہداء میں تین سپاہی اور ایک نان کمبیٹنٹ ملازم شامل ہیں۔ فورسز کی جوابی کارروائی میں بھارتی سرپرستی حاصل کرنے والے فتنہ الخوارج کے آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کسی بھی مزید دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ وژن 'عزمِ استحکام' کے تحت ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشت گردی کی جنگ پوری رفتار سے جاری رہے گی۔ ہمارے بہادر جوانوں کی یہ لازوال قربانیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہم ہر قیمت پر اپنے ملک کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز قبل خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پرانے پولیس لائنز کے قریب ایک مسجد کے پاس ہونے والے دو طرفہ حملے میں 17 پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد صوبے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے سدباب کے لیے سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور جوابی کارروائیاں کر رہی ہیں۔