Pakistan
پولیو مہم کا بائیکاٹ: ضم اضلاع میں لیویز اور خاصہ دار فورس سراپا احتجاج
خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں لیویز اور خاصہ دار فورس کے اہلکاروں نے مطالبات کی عدم منظوری پر 21 ستمبر سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ احتجاجی اہلکاروں نے تھانوں میں روزمرہ کی رپورٹنگ بھی بند کر رکھی ہے جبکہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں لیویز اور خاصہ دار فورس کے اہلکاروں نے حکومت اور پولیس محنت کشوں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے پر آنے والی پولیو مہم کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ تاریخی باب خیبر پر دیے جانے والے دھرنے کے دوران کیا گیا، جہاں لیویز اور خاصہ دار فورسز کمیٹی کے چیئرمین سید جلال اور دیگر رہنماؤں نے واضح کیا کہ بائیکاٹ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے تمام دیرینہ مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ان کے مسائل کا مستقل حل تلاش نہیں کیا جاتا۔ اعلان کے مطابق مہم 21 ستمبر سے شروع ہونی ہے جس کے لیے انتظامات پر اب شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاجی کمیٹی کی جانب سے یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی لیویز یا خاصہ دار اہلکار پولیو ڈیوٹی میں حصہ لے گا تو اس پر ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ احتجاج کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضم اضلاع کے مختلف پولیس اسٹیشنز میں ایف آئی آر درج کرنے اور روزمرہ کی پولیس ڈائریوں میں اندراج کا سلسلہ بھی تاحال معطل رکھا گیا ہے، جس سے انتظامیہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اس احتجاج کی بنیادی وجہ سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد سے ان اہلکاروں کو واضح سروس اسٹرکچر اور سروس کے حقوق کا نہ ملنا ہے۔ اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ ان کی سروس کا آغاز 2019 سے شمار کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی سنیارٹی اور دیگر مراعات سخت متاثر ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ترقی کے واضح لائحہ عمل اور پنشن کے نظام کی عدم موجودگی بھی ان کے بڑے تحفظات میں شامل ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت اپنے وعدے پورے کرے اور ان کے کیریئر کی بہتری کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔ کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ ہر ضم ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کے باہر احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے جہاں مطالبات کی منظوری تک مظاہرے جاری رہیں گے۔ دوسری جانب، ان تمام احتجاجی امور کے باوجود ضلع مہمند میں پولیس نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بھی بخوبی نبھایا ہے۔ پرنگ گھر کے علاقے کرگن کلے میں راستے کے تنازع پر پیش آنے والے جھگڑے کو ڈی ایس پی علی مراد خان کی قیادت میں پولیس ٹیم نے فریقین کے مابین مصالححت کر کے پرامن طریقے سے حل کرا دیا اور راستہ بحال کر دیا گیا۔ تاہم، لیویز اور خاصہ دار اہلکاروں کا مؤقف ہے کہ ان کا احتجاج اور پولیو مہم کا بائیکاٹ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت عملی طور پر ان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی۔