Business
پاکستان میں بجلی کی مسابقتی مارکیٹ اور پہلے 400 میگاواٹ وہیلنگ آکشن کا آغاز
حکومت نے مسابقتی بجلی کے بازار کے تحت 400 میگاواٹ بجلی کے پہلے وہیلنگ آکشن کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت بڑے صنعتی صارفین اپنی پسند کے بجلی پیدا کرنے والوں سے براہ راست بجلی خرید سکیں گے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے اسے تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اب روایتی طریقے سے بجلی کی خریداری اور فروخت سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے۔
اسلام آباد میں حکومت نے مسابقتی ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹس مارکیٹ یعنی سی ٹی بی سی ایم کے تحت 400 میگاواٹ بجلی کے پہلے وہیلنگ آکشن کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس اہم اقدام کا مقصد بڑے اور بنیادی طور پر صنعتی صارفین کو یہ اختیار دینا ہے کہ وہ روایتی طور پر صرف ایک سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنی پر انحصار کرنے کے بجائے ملک میں کہیں بھی اپنی پسند کے بجلی سپلائرز کا انتخاب کر سکیں۔ پاور ڈویژن کے ذیلی ادارے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر یعنی ازمو کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق تمام ممکنہ بولی دہندگان کو اس عمل میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی ہے جس کے لیے تجاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے اس پیش رفت کو پاکستان کے پاور سیکٹر کو سنگل بائر ماڈل سے ایک مسابقتی بجلی کی مارکیٹ میں تبدیل کرنے کی جانب ایک تاریخی اور بڑا قدم قرار دیا ہے۔ اس نئے طریقہ کار کے تحت صنعتی صارفین اب مسابقتی بنیادوں پر براہ راست پاور پروڈیوسرز سے بجلی خرید سکیں گے۔ یہ حکومت کے اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت اگلے پانچ سالوں کے دوران مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کی جانی ہے، اور اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی پیش کی گئی ہے جبکہ ہر شریک کے لیے زیادہ سے زیادہ تخصیص 160 میگاواٹ مقرر کی گئی ہے۔
وزیر توانائی نے واضح کیا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد حکومت مستقبل میں بجلی کی صلاحیت کی خریداری میں براہ راست ملوث نہیں رہے گی اور روایتی تال میل کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ ادارے جو بجلی پیدا کرتے ہیں اور جو اسے استعمال کرتے ہیں، وہ شفافیت اور مسابقت کی بنیاد پر آپس میں براہ راست لین دین کر سکیں گے۔ ابتدائی مرحلے میں یہ نظام صنعتی اور بڑے صارفین کے لیے نافذ کیا جا رہا ہے جو ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں، اور آنے والے برسوں میں اسے بتدریج وسعت دی جائے گی تاکہ عام صارفین کو بھی اپنی پسند کی بجلی خریدنے کا موقع مل سکے۔
اس نئے نظام کے ذریعے حکومت کی جانب سے مہنگی بجلی خرید کر اسے مرکزی بندوبست کے تحت صارفین کو فروخت کرنے کے عمل کا خاتمہ ہو گا، جس سے صنعتی شعبے کو ریلیف ملے گا۔ اویس لغاری نے امید ظاہر کی کہ مسابقتی نرخوں پر بجلی کی دستیابی سے پاکستانی صنعتیں بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں گی اور ملک کی برآمدی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ماضی کے متنازع آئی پی پیز کے نظام کے برعکس بجلی کی خریداری اور تجارت میں شفافیت کا ایک نیا دور شروع ہو گا اور حکومت پاور سیکٹر میں اصلاحات سے متعلق اپنے وعدے پورے کر رہی ہے۔