LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات اور دہشت گردی کے خاتمے پر سخت مؤقف

News Image
پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ڈھونگ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اسلام آباد نے کابل پر زور دیا ہے کہ وہ ذمہ داری سے گریز کرنے کے بجائے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرے۔
اسلام آباد نے ہفتے کے روز دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مسلسل تعمیری مذاکرات کی کوشش کی ہے، لیکن اب وہ ایسے کسی بھی مذاکراتی ڈھونگ کو قبول نہیں کرے گا جو اس کے شہریوں کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے ڈھال بنے۔ وزارتِ اطلاعات کی جانب سے یہ بیان افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاهد کے اس انٹرویو کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی خواہش ظاہر کی تھی اور سعودی عرب کے کردار کو سراہا تھا۔ وزارتِ اطلاعات نے کابل کی جانب سے پاکستان کے ممکنہ فوجی آپریشنز پر جوابی کارروائی کی دھمکی کو بھی یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان عبوری حکومت اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کرے۔ افغان طالبان کے ترجمان نے اپنے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ کابل حکومت کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیتی اور پاکستان کی اندرونی سلامتی کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔ تاہم، پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے کوہاٹ میں جمعہ کی نماز کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں پر ہونے والے ہولناک دہشت گرد فتنہ الخوارج کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملے میں ملوث عناصر کی جڑیں افغانستان میں موجود ہیں۔ پاکستان نے یاد دلایا کہ دوہا معاہدے کے تحت افغان طالبان پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اسلام آباد نے زور دیا کہ محض مذمتی بیانات کافی نہیں ہیں، بلکہ کابل کو دہشت گردوں کے خلاف عملی، مصدقہ اور پائیدار اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ پاکستان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس کے پاس اپنی خود مختاری، علاقائی سلامتی اور شہریوں کے دفاع کے لیے بھرپور صلاحیت موجود ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے تمام ضروری اقدامات اٹھاتا رہے گا۔ وزارت نے کہا کہ افغان حکومت کو الزام تراشی کی سیاست چھوڑ کر دہشت گردوں کی بھرتی، ان کی مالی معاونت اور تربیتی بنیادی ڈھانچے کو نیست و نابود کرنا ہوگا۔ اسلام آباد کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے تدارک کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور پاکستان کی جانب سے واضح کر دیا گیا ہے کہ عملی اقدامات کے بغیر کسی قسم کے مذاکرات کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔